بھارت۔یورپی یونین تجارتی معاہدہ، وزارت تجارت برآمدات پر اثرات کا جائزہ لینے لگی
- برسلز میں پاکستان کے سفارت خانے نے اس مجوزہ تجارتی معاہدے کے ممکنہ نتائج سے متعلق اپنی تجزیاتی رپورٹ حکومت کو ارسال کر دی
وزارت تجارت بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کے پاکستان کی یورپی منڈیوں کو برآمدات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ برسلز میں پاکستان کے سفارت خانے نے اس مجوزہ تجارتی معاہدے کے ممکنہ نتائج سے متعلق اپنی تجزیاتی رپورٹ حکومت کو ارسال کر دی ہے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت بھارت کے ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے کو محصولات میں ریلیف ملنے کا امکان ہے، جس سے بھارتی برآمدات زیادہ مسابقتی ہو جائیں گی۔ تاہم معاہدے کے عملی نفاذ میں کم از کم ایک سال لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات ممکنہ طور پر امریکہ کی جانب منتقل ہو سکتی ہیں جہاں محصولات کے حوالے سے نسبتاً سازگار ماحول موجود ہے۔ اس وقت بھارت کو ٹیکسٹائل پر تقریباً 10 فیصد محصول ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ پاکستان کو جی ایس پی پلس سہولت کے تحت زیرو ڈیوٹی رسائی حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر یورپی یونین ماحولیات اور محنت کشوں کے حقوق جیسے پائیداری سے متعلق امور پر اپنی شرائط نرم کرتی ہے تو اس معاہدے کو یورپی سول سوسائٹی کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین فواد انور نے اس معاہدے کے پاکستان کے برآمدی شعبے، خصوصاً ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت پر ممکنہ اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی منڈی میں پاکستان کی پہلے ہی کمزور مسابقت کو اب وجودی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت یورپی یونین کو تقریباً 9 ارب ڈالر مالیت کی برآمدات کرتا ہے جن میں سے لگ بھگ 65 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کے ساتھ پاکستان کا مسابقتی فرق پہلے ہی بہت کم تھا اور زیادہ تر ترجیحی رسائی کی وجہ سے برقرار تھا، جو اب شدید خطرے میں ہے۔
تازہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں پاکستان کی یورپی یونین کو ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 6.2 ارب ڈالر رہیں، جو بھارت کی 5.6 ارب ڈالر برآمدات سے معمولی زیادہ تھیں۔ فواد انور کے بقول یہ فرق ساختی نہیں تھا بلکہ صرف اس لیے تھا کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کے تحت ترجیحی رسائی حاصل تھی جبکہ بھارت کو ملبوسات پر 12 فیصد تک محصولات کا سامنا تھا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت کو اس معاہدے کے تحت تمام ٹیرف لائنز پر زیرو ڈیوٹی رسائی مل جاتی ہے تو پاکستان کی یہ برتری ختم ہو جائے گی۔ دوسری جانب پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر بھی سخت نگرانی جاری ہے اور مزید سخت شرائط یا اس سہولت کے خاتمے کا امکان بھی موجود ہے، جس سے یورپی منڈی میں پاکستانی برآمدات مزید غیر محفوظ ہو جائیں گی۔
فواد انور نے کہا کہ بھارت نہ صرف محصولات میں چھوٹ بلکہ کم توانائی لاگت، مسابقتی اجرتی ڈھانچے، مصنوعی ریشوں کی سرکاری سرپرستی اور صنعتی مراعاتی اسکیموں کے باعث بھی یورپی منڈی میں تیزی سے اپنا حصہ بڑھا سکتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی برآمد کنندگان مہنگی توانائی، پیداواری صلاحیت سے غیر منسلک بڑھتی کم از کم اجرتوں اور پیچیدہ ٹیکس نظام کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان ویلیو ایڈڈ شعبوں، مثلاً نِٹ ویئر، بُنے ہوئے ملبوسات اور ہوم ٹیکسٹائل، میں یورپی منڈی کا اہم حصہ کھو سکتا ہے، جو روزگار اور زرمبادلہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ خطرہ ہے۔ اگر کاروباری لاگت کم کرنے کے اقدامات فوری نہ کیے گئے تو یورپی یونین کے ساتھ 9 ارب ڈالر کی برآمدی شراکت داری تیزی سے کمزور ہو سکتی ہے جس کے روزگار، سرمایہ کاری اور بیرونی کھاتے پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ برآمدی صنعت پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے، اجرتی پالیسیوں کو پیداواری صلاحیت اور مسابقت سے ہم آہنگ کیا جائے، صنعتی توانائی ٹیرف کو علاقائی سطح کے مطابق بنایا جائے اور یورپی منڈی میں حصہ برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی برآمدی حکمت عملی اپنائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف ترجیحی رسائی برآمدات کو سہارا نہیں دے سکتی۔ اگر اندرونی اصلاحات نہ کی گئیں تو آزاد تجارتی معاہدے کے بعد کی یورپی منڈی میں، جہاں فیصلہ ہمدردی نہیں بلکہ لاگت، استعداد اور مسابقت کی بنیاد پر ہوگا، پاکستان کے لیے مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments