کراچی کے گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق افراد کی تعداد 28 ہوگئی، 80 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں
- عمارت کی "خستہ حال اور غیر مستحکم" کیفیت انتہائی احتیاط کی متقاضی ہے
کراچی کے گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن ایک نازک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں ریسکیو حکام کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 28 ہو گئی ہے، جبکہ 80 سے زائد لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ امدادی ٹیموں کو عمارت کی غیر مستحکم بالائی منزلوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق گل پلازہ میں ریسکیو ٹیموں نے پہلا فلور کلیئر کردیا ہے، جبکہ دوسری اور تیسری منزل پر سرچنگ آپریشن جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کا 40 فیصد حصہ گرچکا ہے، باقی عمارت بھی انہتائی کمزور ہوچکی ہے۔
ذرائع کے مطابق بھاری مشینری اور امدادی گاڑیاں کئی گھنٹوں سے ساکت کھڑی ہیں۔عمارت کے پچھلے حصے میں محدود ریسکیو ٹیمیں انتہائی کم وسائل کے ساتھ کارروائی میں مصروف ہیں۔
آج صبح عمارت کی چھت پر کھڑی گاڑیوں کو کرین کی مدد سے نیچے اُتار لیا گیا ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے اہم تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 26 میں سے صرف 7 لاشوں کی شناخت ہو سکی ہے کیونکہ کئی لاشیں اتنی جل چکی ہیں کہ پہچاننا ناممکن ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ متاثرہ افراد کے لواحقین کے 48 ڈی این اے نمونے بھی حاصل کیے جا چکے ہیں تاکہ لاشوں کی درست اور حتمی شناخت ممکن بنائی جا سکے۔
عینی شاہدین اور متاثرہ خاندانوں نے ریسکیو آپریشن میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اضافی نفری اور جدید مشینری فراہم کی جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کی خراب اور غیر مستحکم حالت انتہائی احتیاط کی متقاضی ہے تاکہ کسی ثانوی انہدام سے ریسکیو ٹیم کے افراد محفوظ رہ سکیں۔ فی الحال، گل پلازہ کے عقب میں علاقہ سیل کر دیا گیا ہے اور 83 لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔






















Comments