شامی فوج نے رقہ کے مغرب میں واقع شہر طبقہ کا کنٹرول سنبھال لیا
- رقہ سے 55 کلومیٹر دور اہم علاقہ حکومتی قبضے میں آگیا، کرد فورسز پسپا
شامی فوج نے ملک کے شمالی علاقوں میں بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے ان علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جو ایک دہائی سے کردوں کی خودمختاری میں تھے۔ صدر احمد الشرع کی جانب سے کرد زبان کو ”قومی زبان“ قرار دینے اور کردوں کو شہریت دینے کے تاریخی صدارتی حکم نامے کے باوجود فریقین میں تصادم بڑھ گیا ہے۔ کرد قیادت کا کہنا ہے کہ یہ مراعات ان کی امنگوں کے مطابق نہیں ہیں اور وہ مکمل آئینی حقوق اور خود مختاری چاہتے ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق فوج نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل شہر ’طبقہ‘ اور شام کے سب سے بڑے ’فرات ڈیم‘ پر قبضہ کر لیا ہے۔ دوسری جانب کرد فورسز نے اسے حالیہ معاہدوں کی خلاف ورزی اور ”دھوکا“ قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دریائے فرات کے پلوں کی تباہی اور پانی کی فراہمی منقطع ہونے سے انسانی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
شام میں کرد کل آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں، جنہیں دہائیوں سے پسماندہ رکھا گیا تھا۔ اگرچہ حالیہ حکومتی اقدامات کو تجزیہ نگار ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ فوجی کنٹرول اور خود مختاری کے سوال پر تنازع ابھی برقرار ہے۔ امریکہ نے بھی شامی فوج سے طبقہ اور حلب کے درمیان جارحانہ کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

























Comments
Comments are closed.