پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے پنجاب میں شدید آٹا بحران کی وارننگ دیدی
- گندم اور آٹے کی نقل و حمل پر لگی پابندیاں فوری ختم کرنے کا مطالبہ
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) نے اوپن مارکیٹ میں گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، سرکاری نرخوں پر آٹے کی دستیابی میں کمی اور پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے اندر غیر مساوی تقسیم کی پالیسیوں اور مبینہ کرپشن کے باعث آٹے کی سپلائی کی صورتحال خراب ہونے کی وارننگ دے دی۔
یہ خدشات پی ایف ایم اے کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک غیر معمولی اجلاس میں اٹھائے گئے، جس میں منتخب نمائندوں، عہدیداروں اور پنجاب بھر سے فلور مل مالکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے فلور ملنگ انڈسٹری کو درپیش متعدد چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور خبردار کیا کہ موجودہ پالیسیوں کے جاری رہنے سے مستقبل قریب میں آٹے کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ایف ایم اے کے گروپ لیڈر عاصم رضا احمد، چیئرمین پنجاب ریاض اللہ خان، میاں ریاض اور دیگر نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی آمد میں کمی کی وجہ سے قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جبکہ سرکاری نرخوں پر آٹے کی دستیابی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر فلور ملز فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی فراہم کردہ گندم پر انحصار کرتی ہیں، جو صرف محدود تعداد میں ملوں کو دی جا رہی ہے، جس سے دیگر ملیں مہنگی اوپن مارکیٹ کی گندم پر منحصر ہو کر رہ گئی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اس فرق کی وجہ سے بہت سی ملز کے لیے سرکاری قیمت پر آٹا فراہم کرنا عملاً ناممکن ہو گیا ہے، جس سے اس شعبے میں منصفانہ مقابلہ ختم ہو گیا ہے۔
مل مالکان نے پرمٹ سسٹم کے ذریعے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی اور بین الاضلاعی نقل و حرکت پر پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے امتیازی، غیر مستقل اور سپلائی چین کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ محکمہ خوراک پنجاب میں کرپشن خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے اور بدعنوانی کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔
پی ایف ایم اے کے رہنماؤں نے کہا کہ صنعت شدید آپریشنل اور مالی دباؤ کا شکار ہے، جس سے فلور ملوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے کام جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری اصلاحی اقدامات کی اپیل کی ہے۔
ایسوسی ایشن نے محکمہ خوراک میں کرپشن کے خاتمے اور ذمہ داروں کے احتساب کے لیے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ فلور ملز کے درمیان گندم کی منصفانہ تقسیم اور اگر مساوی سپلائی ممکن نہ ہو تو ”پہلے آئیے، پہلے پائیے“ کی بنیاد پر ضلعی کوٹے کی تخصیص کا مطالبہ بھی کیا۔
پی ایف ایم اے نے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ جب تک یہ پابندیاں ختم نہیں ہوتیں فعال فلور ملوں کو روزانہ کی بنیاد پر 10,000 ٹن کے مساوی پرمٹ جاری کیے جائیں۔ مزید برآں صوبے بھر میں 15 کلوگرام فائن آٹے کے تھیلوں کی تیاری اور فروخت پر عائد پابندی ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
دیگر مطالبات میں گندم کی ترسیل کے پرمٹ ملوں کی ضرورت کے مطابق جاری کرنا اور راولپنڈی و اسلام آباد کو آٹا سپلائی کرنے والی ملوں پر عائد اس شرط کی واپسی شامل ہے جس کے تحت انہیں 25 فیصد آٹا نجی طور پر خریدی گئی گندم سے فراہم کرنا ہوتا ہے، جو ایسوسی ایشن کے مطابق ممکن نہیں ہے۔
























Comments
Comments are closed.