BR100 Increased By (0.02%)
BR30 Increased By (0.06%)
KSE100 Decreased By (-0%)
KSE30 Increased By (0.05%)
BAFL 60.20 Decreased By ▼ -0.13 (-0.22%)
BIPL 26.92 Increased By ▲ 0.11 (0.41%)
BOP 35.20 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
CNERGY 8.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.61%)
DFML 19.78 Decreased By ▼ -0.06 (-0.3%)
DGKC 218.15 Increased By ▲ 1.56 (0.72%)
FABL 97.01 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 56.61 Increased By ▲ 0.12 (0.21%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.11 (-0.61%)
GGL 23.71 Decreased By ▼ -0.30 (-1.25%)
HBL 294.97 Decreased By ▼ -0.01 (-0%)
HUBC 233.05 Increased By ▲ 1.07 (0.46%)
HUMNL 11.10 Decreased By ▼ -0.09 (-0.8%)
KEL 8.39 Increased By ▲ 0.19 (2.32%)
LOTCHEM 28.32 Decreased By ▼ -0.23 (-0.81%)
MLCF 101.06 Increased By ▲ 0.30 (0.3%)
OGDC 337.53 Increased By ▲ 3.28 (0.98%)
PAEL 43.32 Increased By ▲ 0.24 (0.56%)
PIBTL 17.82 Decreased By ▼ -0.02 (-0.11%)
PIOC 274.99 Increased By ▲ 0.28 (0.1%)
PPL 244.79 Increased By ▲ 2.16 (0.89%)
PRL 35.71 Decreased By ▼ -0.16 (-0.45%)
SNGP 125.25 Increased By ▲ 2.39 (1.95%)
SSGC 32.98 Increased By ▲ 0.75 (2.33%)
TELE 9.04 Decreased By ▼ -0.07 (-0.77%)
TPLP 10.85 Decreased By ▼ -0.10 (-0.91%)
TRG 65.90 Decreased By ▼ -0.05 (-0.08%)
UNITY 11.18 Decreased By ▼ -0.09 (-0.8%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.01 (0.79%)
Perspectives

کیا مشہور کاروباری کتابیں ایچ آر کے غیر سنجیدہ تاثر کی اصل وجہ ہیں؟

  • مشہور کاروباری کتابوں کو کارپوریٹ دنیا کا ٹک ٹاک قرار دیا جا سکتا ہے ، یہ دلچسپ تو ہیں مگر ہمیشہ قابلِ بھروسہ نہیں
شائع January 12, 2026 اپ ڈیٹ January 12, 2026 07:21pm

دہائیوں پرانی تحریروں کے اثر ورسوخ نے ہیومن ریسورسز (ایچ آر) پر دیرپا اور بدقسمتی سے بعض اوقات آنکھیں بند کر دینے والے اثرات مرتب کیے ہیں۔”دی سیون ہیبٹس آف ہائیلی ایفیکٹیو پیپل“ جسے وسیع پیمانے پر ایک بنیادی کلاسیک سمجھا جاتا ہے اپنے مصنف کے انتقال کے باوجود 1989 میں اپنی اشاعت کے بعد سے ایچ آر میں اپنی جڑیں مضبوط کیے ہوئے ہے۔ اس حد تک کہ آپ آج بھی پاکستان کے ساتھ ساتھ 100 سے زائد مختلف ممالک میں اس کے تربیتی سیشنز میں شرکت کر سکتے ہیں۔

ایک اور پائیدار اسٹریٹجک کلاسیک ”گڈ ٹو گریٹ“ بھی تقریباً 24 برس سے اس شعبے میں ایک مستقل حوالہ بنی ہوئی ہے۔یہ اثر ورسوخ نسبتاً نئی کتابوں تک بھی پھیلا ہوا ہے جن میں کروشل کنورسیشنز، کیرل ڈویک کی مائنڈ سیٹ، ایٹومک ہیبٹس یا دی لیٹ دیم تھیوری جیسی چند مثالیں شامل ہیں۔

”آپ نے آخری کتاب کون سی پڑھی؟“ ملازمت کا انٹرویو لینے والا یہ ظاہر کرتے ہوئے پوچھتا ہے کہ یہ کوئی چالاک سوال نہیں ہے۔ ایچ آر پروفیشنل جس کے پاس بظاہر ہر مسئلے کے لیے ایک کتاب موجود ہے کہتا ہے “آپ کو لازمی طور پر فلاں کتاب پڑھنی چاہیے ،یہ آپ کا مطلوبہ مسئلہ حل کر دے گی۔

ایک ایسے دور میں جب ہم یہ سبق مشکل طریقے سے سیکھ رہے ہیں کہ آپ کی خبروں کے عام ذرائع کافی متعصب اور ناقابل اعتبار ہو سکتے ہیں تو شاید ہمیں کارپوریٹ لٹریچر کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

اسی دوران ٹریننگ پروفیشنل جو یہ مانتا ہے کہ ہر کتاب خفیہ طور پر ایک تربیتی مینوئل ہے اعلان کرتا ہے کہ ہم فلاں کتاب کے طریقہ کار پر مبنی ایک مکمل ٹریننگ ڈیزائن کر رہے ہیں۔

اس اثر سے بچنا ممکن نہیں یا دوسرے لفظوں میں کاروباری کتابوں نے ایچ آر پر ایک طاقتور سایہ ڈال رکھا ہے جو ٹریننگ سے لے کر بھرتی اور ورک کلچر تک ہر چیز کو تشکیل دے رہا ہے۔

کمزور گرفت

کوئی یہ سوال کر سکتا ہے کہ کیا اسٹیفن کووی انسٹی ٹیوٹ صرف یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ”7 عادات“ افادیت کے پائیدار اصولوں پر مبنی ہونے کی وجہ سے آج بھی متعلقہ ہیں۔ اگرچہ کتاب میں کچھ بہترین آئیڈیاز اور رائج اصطلاحات موجود ہیں لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کووی کی سات سال قبل ریلیز ہونے والی مذہبی کتاب ”دی ڈیوائن سینٹر“ اور اس کتاب کے درمیان مماثلت ہے، اگرچہ اسے ایک سیکولر شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ دیگر کا دعویٰ ہے کہ یہ سسٹمز کے کردار کو نظر انداز کرتی ہے اور اس میں فطری طور پر ثقافتی تعصب موجود ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ اصول کامیابی کے خالص مغربی تصورات پر مبنی ہیں، جن میں اختیار کی تقسیم (پاور ڈسٹنس) کے مخصوص پیمانے مدِنظر رکھے گئے ہیں۔ پاکستان جیسے سلسلہ وار مراتب اور رسمی معاشرت والے کلچر میں ’پرو ایکٹو بنیں‘ یا ’سب کی جیت سوچیں جیسے اصول شاید ثقافتی طور پر مطابقت نہ رکھتے ہوں اور ان کا یہاں جوں کا توں اطلاق ممکن نہ ہو۔

مزید برآں یہ بات تشویشناک ہے کہ کئی ماہرین تعلیم کی جانب سے اس کے تحقیقی طریقوں میں کمزوریوں کی نشاندہی کے باوجود ”گڈ ٹو گریٹ“ کی گرفت اتنی مضبوط رہی ہے۔ اس میں کنفرمیشن بائیس (پسندیدہ نتائج کی تلاش)، نمونے کا ناکافی حجم، تعلق اور وجہ کے درمیان الجھن اور یہ ناقابل تردید حقیقت شامل ہے کہ اس میں ذکر کردہ 11 کمپنیوں میں سے اب کوئی بھی ”گریٹ“ نہیں رہی۔

نئی مقبول کاروباری کتابیں بھی تنقید کا نشانہ بنی ہیں۔ ایٹومک ہیبٹس یہ ثابت کرتی ہے کہ کتاب کا آسان ہونا جدت کی ضمانت نہیں ہے۔ اس پر تنقید کی گئی ہے کیونکہ اگرچہ یہ پڑھنے میں آسان ہے لیکن اس نے بیہیویئرل سائنس میں کوئی نیا اضافہ نہیں کیا ہے۔ یہ تصورات کو ضرورت سے زیادہ سادہ کر دیتی ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے کہ تمام عادات برابر نہیں ہوتیں اور یہ فرد اور طرز عمل کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔ دانت صاف کرنا اور کسی لت یا نشے کو چھوڑنا ایک جیسی بات نہیں ہے۔

اسی طرح دیگر کاروباری کتابوں کی حدود کو بے نقاب کرنے کے لیے بھی صرف بنیادی سطح کی تحقیق درکار ہے۔

باہمی ہم آہنگی سے سیکھنا

کیا یہی وجہ ہے کہ ایچ آر اب بھی اپنے ’سطحی‘ ہونے کے تاثر کو ختم نہیں کر سکا؟ مقبول کاروباری کتابوں کو کارپوریٹ دنیا کا ٹک ٹاک کہا جا سکتا ہے، یہ دلچسپ تو ہیں مگر ہمیشہ قابلِ بھروسہ نہیں۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم کاروباری کتابوں کو مقدس صحیفوں کی طرح سمجھنا (یا انہیں مقدس تحریروں پر مبنی بنانا) بند کر دیں۔ امیدواروں کی جانب سے مقبول کتابوں کے نام سن کر سر ہلانے کے بجائے کیا انٹرویو لینے والوں کو یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ ’کیرل ڈویک کی مائنڈ سیٹ کی ایک طاقت اور ایک واضح خامی کیا ہے؟‘

کیا ہمیں ان تحقیقی طریقوں کا جائزہ نہیں لینا چاہیے جو کسی بھی چیز کی ساکھ کا بنیادی ستون ہوتے ہیں؟ یا شاید ہمیں اپنے ڈیٹا کے ذرائع کو اکیڈمک جرنلز اور تجرباتی معلومات تک وسعت دینی چاہیے؟ کیا ان کتابوں کو تعلیم سمجھا جانا چاہیے یا محض اچھی بصیرت اور رائے؟

کیا ہم کسٹمر ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ بات چیت کر کے اور انہیں ضروری لچک دکھا کر زیادہ بصیرت حاصل کریں گے یا ہمیں سختی سے کتابوں کے مشہور فریم ورکس پر عمل پیرا رہنا چاہیے؟

ایک ایسے دور میں جب ہم یہ سیکھ رہے ہیں کہ آپ کی خبروں کے ذرائع متعصب اور ناقابل اعتبار ہو سکتے ہیں، ہمیں کارپوریٹ لٹریچر کو بھی پرکھنا چاہیے یا شاید صرف سب سے زیادہ دلچسپ کتاب کے بجائے مختلف ذرائع سے علم کو یکجا کرنا شروع کرنا چاہیے۔

آخر کار ایک کتاب ایک اوزار ہے اور اسے اوزار کے طور پر ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔ جیسا کہ فلسفی جان لاک نے کہا تھا ’مطالعہ ذہن کو صرف علم کا مواد فراہم کرتا ہے، یہ سوچ ہی ہے جو ہمارے پڑھے ہوئے کو ہمارا بناتی ہے‘۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صرف مقبول کاروباری کتابیں کافی نہیں ہیں۔

مضمون کا بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments

200 حروف