کیا مشہور کاروباری کتابیں ایچ آر کے غیر سنجیدہ تاثر کی اصل وجہ ہیں؟
- مشہور کاروباری کتابوں کو کارپوریٹ دنیا کا ٹک ٹاک قرار دیا جا سکتا ہے ، یہ دلچسپ تو ہیں مگر ہمیشہ قابلِ بھروسہ نہیں
دہائیوں پرانی تحریروں کے اثر ورسوخ نے ہیومن ریسورسز (ایچ آر) پر دیرپا اور بدقسمتی سے بعض اوقات آنکھیں بند کر دینے والے اثرات مرتب کیے ہیں۔”دی سیون ہیبٹس آف ہائیلی ایفیکٹیو پیپل“ جسے وسیع پیمانے پر ایک بنیادی کلاسیک سمجھا جاتا ہے اپنے مصنف کے انتقال کے باوجود 1989 میں اپنی اشاعت کے بعد سے ایچ آر میں اپنی جڑیں مضبوط کیے ہوئے ہے۔ اس حد تک کہ آپ آج بھی پاکستان کے ساتھ ساتھ 100 سے زائد مختلف ممالک میں اس کے تربیتی سیشنز میں شرکت کر سکتے ہیں۔
ایک اور پائیدار اسٹریٹجک کلاسیک ”گڈ ٹو گریٹ“ بھی تقریباً 24 برس سے اس شعبے میں ایک مستقل حوالہ بنی ہوئی ہے۔یہ اثر ورسوخ نسبتاً نئی کتابوں تک بھی پھیلا ہوا ہے جن میں کروشل کنورسیشنز، کیرل ڈویک کی مائنڈ سیٹ، ایٹومک ہیبٹس یا دی لیٹ دیم تھیوری جیسی چند مثالیں شامل ہیں۔
”آپ نے آخری کتاب کون سی پڑھی؟“ ملازمت کا انٹرویو لینے والا یہ ظاہر کرتے ہوئے پوچھتا ہے کہ یہ کوئی چالاک سوال نہیں ہے۔ ایچ آر پروفیشنل جس کے پاس بظاہر ہر مسئلے کے لیے ایک کتاب موجود ہے کہتا ہے “آپ کو لازمی طور پر فلاں کتاب پڑھنی چاہیے ،یہ آپ کا مطلوبہ مسئلہ حل کر دے گی۔
ایک ایسے دور میں جب ہم یہ سبق مشکل طریقے سے سیکھ رہے ہیں کہ آپ کی خبروں کے عام ذرائع کافی متعصب اور ناقابل اعتبار ہو سکتے ہیں تو شاید ہمیں کارپوریٹ لٹریچر کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
اسی دوران ٹریننگ پروفیشنل جو یہ مانتا ہے کہ ہر کتاب خفیہ طور پر ایک تربیتی مینوئل ہے اعلان کرتا ہے کہ ہم فلاں کتاب کے طریقہ کار پر مبنی ایک مکمل ٹریننگ ڈیزائن کر رہے ہیں۔
اس اثر سے بچنا ممکن نہیں یا دوسرے لفظوں میں کاروباری کتابوں نے ایچ آر پر ایک طاقتور سایہ ڈال رکھا ہے جو ٹریننگ سے لے کر بھرتی اور ورک کلچر تک ہر چیز کو تشکیل دے رہا ہے۔
کمزور گرفت
کوئی یہ سوال کر سکتا ہے کہ کیا اسٹیفن کووی انسٹی ٹیوٹ صرف یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ”7 عادات“ افادیت کے پائیدار اصولوں پر مبنی ہونے کی وجہ سے آج بھی متعلقہ ہیں۔ اگرچہ کتاب میں کچھ بہترین آئیڈیاز اور رائج اصطلاحات موجود ہیں لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کووی کی سات سال قبل ریلیز ہونے والی مذہبی کتاب ”دی ڈیوائن سینٹر“ اور اس کتاب کے درمیان مماثلت ہے، اگرچہ اسے ایک سیکولر شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ دیگر کا دعویٰ ہے کہ یہ سسٹمز کے کردار کو نظر انداز کرتی ہے اور اس میں فطری طور پر ثقافتی تعصب موجود ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ اصول کامیابی کے خالص مغربی تصورات پر مبنی ہیں، جن میں اختیار کی تقسیم (پاور ڈسٹنس) کے مخصوص پیمانے مدِنظر رکھے گئے ہیں۔ پاکستان جیسے سلسلہ وار مراتب اور رسمی معاشرت والے کلچر میں ’پرو ایکٹو بنیں‘ یا ’سب کی جیت سوچیں جیسے اصول شاید ثقافتی طور پر مطابقت نہ رکھتے ہوں اور ان کا یہاں جوں کا توں اطلاق ممکن نہ ہو۔
مزید برآں یہ بات تشویشناک ہے کہ کئی ماہرین تعلیم کی جانب سے اس کے تحقیقی طریقوں میں کمزوریوں کی نشاندہی کے باوجود ”گڈ ٹو گریٹ“ کی گرفت اتنی مضبوط رہی ہے۔ اس میں کنفرمیشن بائیس (پسندیدہ نتائج کی تلاش)، نمونے کا ناکافی حجم، تعلق اور وجہ کے درمیان الجھن اور یہ ناقابل تردید حقیقت شامل ہے کہ اس میں ذکر کردہ 11 کمپنیوں میں سے اب کوئی بھی ”گریٹ“ نہیں رہی۔
نئی مقبول کاروباری کتابیں بھی تنقید کا نشانہ بنی ہیں۔ ایٹومک ہیبٹس یہ ثابت کرتی ہے کہ کتاب کا آسان ہونا جدت کی ضمانت نہیں ہے۔ اس پر تنقید کی گئی ہے کیونکہ اگرچہ یہ پڑھنے میں آسان ہے لیکن اس نے بیہیویئرل سائنس میں کوئی نیا اضافہ نہیں کیا ہے۔ یہ تصورات کو ضرورت سے زیادہ سادہ کر دیتی ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے کہ تمام عادات برابر نہیں ہوتیں اور یہ فرد اور طرز عمل کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔ دانت صاف کرنا اور کسی لت یا نشے کو چھوڑنا ایک جیسی بات نہیں ہے۔
اسی طرح دیگر کاروباری کتابوں کی حدود کو بے نقاب کرنے کے لیے بھی صرف بنیادی سطح کی تحقیق درکار ہے۔
باہمی ہم آہنگی سے سیکھنا
کیا یہی وجہ ہے کہ ایچ آر اب بھی اپنے ’سطحی‘ ہونے کے تاثر کو ختم نہیں کر سکا؟ مقبول کاروباری کتابوں کو کارپوریٹ دنیا کا ٹک ٹاک کہا جا سکتا ہے، یہ دلچسپ تو ہیں مگر ہمیشہ قابلِ بھروسہ نہیں۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم کاروباری کتابوں کو مقدس صحیفوں کی طرح سمجھنا (یا انہیں مقدس تحریروں پر مبنی بنانا) بند کر دیں۔ امیدواروں کی جانب سے مقبول کتابوں کے نام سن کر سر ہلانے کے بجائے کیا انٹرویو لینے والوں کو یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ ’کیرل ڈویک کی مائنڈ سیٹ کی ایک طاقت اور ایک واضح خامی کیا ہے؟‘
کیا ہمیں ان تحقیقی طریقوں کا جائزہ نہیں لینا چاہیے جو کسی بھی چیز کی ساکھ کا بنیادی ستون ہوتے ہیں؟ یا شاید ہمیں اپنے ڈیٹا کے ذرائع کو اکیڈمک جرنلز اور تجرباتی معلومات تک وسعت دینی چاہیے؟ کیا ان کتابوں کو تعلیم سمجھا جانا چاہیے یا محض اچھی بصیرت اور رائے؟
کیا ہم کسٹمر ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ بات چیت کر کے اور انہیں ضروری لچک دکھا کر زیادہ بصیرت حاصل کریں گے یا ہمیں سختی سے کتابوں کے مشہور فریم ورکس پر عمل پیرا رہنا چاہیے؟
ایک ایسے دور میں جب ہم یہ سیکھ رہے ہیں کہ آپ کی خبروں کے ذرائع متعصب اور ناقابل اعتبار ہو سکتے ہیں، ہمیں کارپوریٹ لٹریچر کو بھی پرکھنا چاہیے یا شاید صرف سب سے زیادہ دلچسپ کتاب کے بجائے مختلف ذرائع سے علم کو یکجا کرنا شروع کرنا چاہیے۔
آخر کار ایک کتاب ایک اوزار ہے اور اسے اوزار کے طور پر ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔ جیسا کہ فلسفی جان لاک نے کہا تھا ’مطالعہ ذہن کو صرف علم کا مواد فراہم کرتا ہے، یہ سوچ ہی ہے جو ہمارے پڑھے ہوئے کو ہمارا بناتی ہے‘۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صرف مقبول کاروباری کتابیں کافی نہیں ہیں۔
مضمون کا بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔























Comments