وزیراعظم کی رمضان میں سودمند ریلیف پیکیج تیار کرنے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان المبارک میں عوام کے لیے سودمند اور مؤثر پیکج تیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں اور سفید پوش عوام کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
وزیراعظم نے خاص ہدایت دی کہ رمضان پیکیج کے تحت امداد کی تقسیم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائے تاکہ مستحقین کی عزت و وقار محفوظ رہے۔ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے امداد کی فراہمی نقد معیشت کے خاتمے کی سمت ایک اہم سنگ میل بھی ثابت ہوگی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ سال کے رمضان پیکیج کی شفافیت پر ایک معتبر آڈٹ فرم کی رپورٹ پر متعلقہ اداروں اور وزارتوں کی تعریف کی۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ یوٹیلٹی اسٹورز میں بدعنوانی کی وجہ سے مستحق افراد اپنے حقوق سے محروم ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مالی معاونت اور غریب و متوسط طبقے کی فلاح حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور ہدایت دی کہ رمضان پیکیج کے تحت مستحق افراد کے لیے سبسڈی کی رقم صرف ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے تقسیم کی جائے تاکہ ان کی عزت و وقار مجروح نہ ہو۔
شہباز شریف نے کہا کہ عوام کو سبسڈی کی رقم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کرنا نقد معیشت کے خاتمے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان پیکیج کی تقسیم میں اسٹیٹ بینک کے شامل ہونے سے بھی کیش لیس معیشت کو فروغ ملے گا۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں پر زور دیا کہ وہ سبسڈی کی تقسیم میں پسماندہ طبقوں کو زیادہ سے زیادہ شامل کرنے کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ رمضان پیکیج کی بہتر اور مؤثر تقسیم کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع حکمت عملی اور سفارشات جلد از جلد پیش کی جائیں، ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور منظم مانیٹرنگ سسٹم بھی مؤثر نگرانی کے لیے قائم کیا جائے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے رمضان پیکیج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں عالمی سطح پر معروف اور معتبر آڈٹ فرم نے حکومت کے پیکیج کو مؤثر اور شفاف قرار دیا۔
مزید برآں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ایک سوشل پروٹیکشن والٹ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے جس کے تحت مستحق افراد کو مفت سم کارڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، اور مارچ 2026 سے تمام سبسڈی کی رقم ان سم کارڈز کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر تقسیم کی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ رمضان پیکیج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میں کوئی مالی بدعنوانی یا سنگین انتظامی غلطی سامنے نہیں آئی۔
























Comments
Comments are closed.