بلند توانائی اخراجات، چائنا موبائل پاکستان کا صنعتی بجلی ٹیرف کے اطلاق کا مطالبہ
- چائنا موبائل پاکستان طویل عرصے سے ایک لائسنس یافتہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے طور پر ملک بھر میں کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرتی آ رہی ہے
چائنا موبائل پاکستان (سی ایم پاک)، جو زونگ کے برانڈ نام سے کام کر رہی ہے، نے اپنے کلاؤڈ اور انٹیگریٹڈ ڈیٹا سینٹر (آئی ڈی سی) سہولیات کے لیے صنعتی بجلی ٹیرف کے اطلاق کا مطالبہ کیا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ بجلی کے بلند اخراجات مقامی ڈیٹا سینٹرز کی مسابقت کو شدید طور پر متاثر کر رہے ہیں اور بین الاقوامی کلاؤڈ سروس فراہم کنندگان کو پاکستان میں اپنا انفراسٹرکچر قائم کرنے سے روک رہے ہیں۔
اس حوالے سے سی ایم پاک کے ڈائریکٹر ریگولیٹری افیئرز شاہد رزاق نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے سیکریٹری ضرار ہاشم خان کو ایک خط لکھا، جس کی نقول چیئرمین نیپرا، سیکریٹری پاور ڈویژن اور سیکریٹری ایس آئی ایف سی کو بھی ارسال کی گئیں۔ خط میں کہا گیا کہ چائنا موبائل پاکستان طویل عرصے سے ایک لائسنس یافتہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے طور پر ملک بھر میں کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرتی آ رہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ مارکیٹ کے ارتقا اور بدلتے ہوئے کاروباری ماحول کے پیش نظر سی ایم پاک نے حکومتی وژن ڈیجیٹل پاکستان کے مطابق اسٹریٹجک طور پر نئی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سرگرمیوں، بالخصوص کلاؤڈ سروسز اور انٹیگریٹڈ ڈیٹا سینٹر بزنس میں تنوع اختیار کیا ہے۔
اسی تناظر میں کمپنی نے اسلام آباد میں چک شہزاد میں اپنے ہیڈکوارٹر میں ٹئیر تھری معیار کا ڈیٹا سینٹر قائم کیا ہے، جو بھاری سرمائے کی سرمایہ کاری اور پاکستان کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم سے طویل المدتی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور اور کراچی میں بھی اسی نوعیت کی کلاؤڈ اور آئی ڈی سی سہولیات قائم کرنے کے منصوبے موجود ہیں تاکہ حکومتی ڈیجیٹلائزیشن، مقامی ڈیٹا ہوسٹنگ، ڈیٹا خودمختاری اور انٹرپرائز گریڈ کلاؤڈ سروسز کو فروغ دیا جا سکے۔
تاہم سی ایم پاک کے مطابق جب وہ کلاؤڈ، ہوسٹنگ اور ڈیٹا سینٹر سے متعلق سرکاری ٹینڈرز میں حصہ لیتی ہے تو اسے ساختی مسابقتی نقصان کا سامنا ہوتا ہے۔ آئی ٹی کمپنیوں یا اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (ایس ٹی زیڈز) میں کام کرنے والے اداروں کو ٹیکس چھوٹ، ریبیٹس اور کسٹمز میں مراعات حاصل ہیں، جبکہ ٹیلی کام کمپنی ہونے کی وجہ سے سی ایم پاک اس فریم ورک کے تحت ان مراعات کی اہل نہیں، حالانکہ وہ یکساں نوعیت کی کلاؤڈ اور آئی ڈی سی خدمات فراہم کر رہی ہے۔
کمپنی نے زور دیا کہ کلاؤڈ اور آئی ڈی سی بزنس کو پیرنٹ کمپنی کے لائسنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ فراہم کردہ خدمات کی نوعیت کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔ سی ایم پاک کے مطابق اس کے کلاؤڈ اور ڈیٹا سینٹر آپریشنز ٹیلی کام کی بنیادی سرگرمیوں سے الگ ہیں اور قومی اہداف سے ہم آہنگ ہیں، جن میں مقامی ڈیٹا ہوسٹنگ، ای گورنمنٹ، ملکی کلاؤڈ انفراسٹرکچر کی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول اور آئی ٹی شعبے میں اعلیٰ معیار کی ملازمتوں کا قیام شامل ہے۔
اسی طرح کمپنی نے بجلی کے نرخوں کے مسئلے کو بھی انتہائی اہم قرار دیا۔ سی ایم پاک نے خبردار کیا کہ صنعتی بجلی ٹیرف تک رسائی کے بغیر پاکستان کا آئی ٹی اور کلاؤڈ ایکو سسٹم پائیدار بنیادوں پر ترقی نہیں کر سکے گا۔ بلند توانائی اخراجات نہ صرف مقامی ڈیٹا سینٹرز کی مسابقت کو کم کرتے ہیں بلکہ عالمی کلاؤڈ فراہم کنندگان کو بھی پاکستان میں انفراسٹرکچر قائم کرنے سے روکتے ہیں۔
سی ایم پاک نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ کلاؤڈ اور آئی ڈی سی بزنس کے لیے صنعتی بجلی ٹیرف کے اطلاق کی حمایت کرے اور اس شعبے کو ایک اسٹریٹجک قومی اثاثہ تسلیم کرتے ہوئے مالی اور ریگولیٹری معاونت فراہم کرے۔ کمپنی کے مطابق بروقت پالیسی اقدامات سے نہ صرف مزید سرمایہ کاری ممکن ہو گی بلکہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments
Comments are closed.