تنازع اس نئی شق پر تھا جس کے تحت ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے تک رسائی سے انکار یا اس میں رکاوٹ ڈالنے والے جائیداد مالکان، کرایہ داروں، مکان مالکان یا اداروں پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی
ترامیم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی عوامی ادارہ یا انتظامیہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر تک اجتماعی نجی رسائی کے بدلے فیس، کرایہ یا معاوضہ وصول نہیں کر سکے گا۔
چائنا موبائل پاکستان طویل عرصے سے ایک لائسنس یافتہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے طور پر ملک بھر میں کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرتی آ رہی ہے