اینگرو پاورجن قادرپور کی کندھ کوٹ فیلڈ سے 40 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس کی الاٹمنٹ کی درخواست
- ذرائع کے مطابق کمپنی نے یہ درخواست پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہ جہاں مرزا کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کی ہے۔
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ایم/ایس اینگرو پاورجن قادرپور لمیٹڈ (ای پی کیو ایل) نے کندھ کوٹ گیس فیلڈ سے ضرورت اور دستیابی کی بنیاد پر یومیہ زیادہ سے زیادہ 40 ملین مکعب فٹ (ایم ایم ایس سی ایف ڈی) گیس کی الاٹمنٹ کی درخواست کی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی نے یہ درخواست پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہ جہاں مرزا کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کی ہے۔
خط میں ای پی کیو ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عدیل قمر نے اس معاملے پر سابقہ خط و کتابت اور حالیہ میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیا، جن میں گڈو پاور پلانٹ میں کم استعمال کے باعث کندھ کوٹ گیس کے ایک حصے کی دوبارہ الاٹمنٹ پر غور کی بات کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کندھ کوٹ میں مقامی گیس کا مسلسل کم استعمال اور قادرپور گیس فیلڈ کی بتدریج کمی کے باعث، پلانٹ کی اعلیٰ آپریشنل تیاری کے باوجود ای پی کیو ایل کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر محدود ہو چکی ہے۔
کمپنی کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کے دوران پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، جو کندھ کوٹ گیس فیلڈ کا آپریٹر ہے، مسلسل یہ رپورٹ کرتا رہا ہے کہ جینکو-ٹو (گڈو پاور پلانٹ) کی جانب سے کندھ کوٹ گیس کی کھپت کم رہی، جس کی وجوہات میں تکنیکی ڈی ریٹنگ اور طے شدہ مرمتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ عوامی سطح پر دستیاب معلومات کے مطابق کندھ کوٹ گیس کی ایک قابلِ ذکر مقدار طویل عرصے سے استعمال میں نہیں آ رہی۔
اسی دوران ای پی کیو ایل کم لوڈ فیکٹر پر کام کر رہا ہے کیونکہ قادرپور گیس کی فراہمی 2018 سے مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اس وقت یومیہ گیس کی اوسط فراہمی تقریباً 27 ایم ایم ایس سی ایف ڈی ہے، جبکہ ڈیزائن کے مطابق ضرورت 63 ایم ایم ایس سی ایف ڈی ہے۔
ای پی کیو ایل کے مطابق یہ صورتحال ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہے، جس کے تحت پاور سیکٹر کے لیے پہلے سے مختص مگر اس وقت غیر استعمال شدہ مقامی گیس کو کسی نئی گنجائش یا گیس سسٹم پر اضافی دباؤ ڈالے بغیر ایک موجودہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ ای پی کیو ایل مکمل لوڈ پر 63 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس پر چلنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور ضرورت کے تحت 30 ایم ایم ایس سی ایف ڈی تک کندھ کوٹ گیس استعمال کر سکتا ہے۔ اس سے پلانٹ کا لوڈ فیکٹر موجودہ 45 فیصد سے بڑھ کر 85 تا 90 فیصد ہو جائے گا اور قادرپور ریزروائر کی کمی سے ضائع ہونے والی مقامی بجلی پیداوار بحال ہو سکے گی۔
مکمل جانچ پڑتال کے لیے کمپنی نے پہلے ہی متعدد اقدامات مکمل کر لیے ہیں، جن میں او ای ایم یعنی جی ای کی جانب سے ٹربائن کی مطابقت کی تصدیق، کندھ کوٹ اور ای پی کیو ایل کے درمیان پائپ لائن کنیکٹیوٹی کے انجینئرنگ ڈیزائن، گیس کے معیار کی ہم آہنگی کی تصدیق، اور عملی نفاذ کی تیاری شامل ہے۔ کمپنی کے مطابق قریبی فیلڈ انضمام کے باعث منصوبہ 6 سے 9 ماہ میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔
چیف ایگزیکٹو کے مطابق یہ تمام عوامل ای پی کیو ایل کو اضافی کندھ کوٹ گیس کے بروقت اور محفوظ استعمال کے لیے تکنیکی اور جغرافیائی طور پر سب سے موزوں اثاثہ بناتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت کے تحت کندھ کوٹ کی اضافی گیس ای پی کیو ایل کو دینے سے تمام فریقین کو فائدہ ہوگا۔ اگلے 10 برسوں میں اس تجویز سے پاور سیکٹر کو درآمدی کوئلے یا آر ایل این جی کے مقابلے میں 47 سے 68 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے بجلی کے ٹیرف میں براہِ راست کمی آئے گی، جبکہ زیادہ لوڈ فیکٹر سے گرڈ کے استحکام میں بھی بہتری ہوگی۔
کمپنی کے مطابق گیس فراہم کرنے والے کو پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) کی بقیہ مدت کے دوران 96.6 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوگی، جبکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہونے سے ملک کو 484 سے 604 ملین ڈالر کی زرمبادلہ بچت بھی ہوگی۔
ای پی کیو ایل نے 17 فروری 2025 کو حکومتِ پاکستان، ای پی کیو ایل اور سی پی پی اے-جی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا حوالہ بھی دیا، جس میں حکومت نے قومی گرڈ کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے ای پی کیو ایل کو اضافی گیس کی فراہمی میں سہولت دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
اس پس منظر میں ای پی کیو ایل نے پی پی آئی بی کے ذریعے حکومت سے درخواست کی ہے کہ کندھ کوٹ کی اضافی گیس 30 سے 40 ایم ایم ایس سی ایف ڈی کے درمیان ضرورت اور دستیابی کی بنیاد پر الاٹ کی جائے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ایک تکنیکی طور پر قابلِ عمل، مالی طور پر ممکن اور تمام فریقین کے لیے فائدہ مند حل ہے، جو پہلے سے پیدا ہونے والی مقامی گیس کو فوری، قابلِ ترسیل اور کم لاگت بجلی میں تبدیل کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر صارفین کے لیے بجلی کی لاگت میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments