سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال پر قوم سوگوار
- نامور ماہرِ معاشیات اور اسٹیٹ بینک کی سابق گورنر کراچی میں 70 برس کی عمر میں چل بسیں
پاکستان کی سیاسی اور معاشی قیادت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سابق گورنر اور نگران وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور انہیں ملکی معاشی تاریخ کی ایک قد آور شخصیت اور عالمی سطح پر معتبر ٹیکنوکریٹ قرار دیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق 70 سالہ ڈاکٹر شمشاد اختر اچانک انتقال کر گئیں۔ وہ کسی سنگین بیماری میں مبتلا نہیں تھیں۔ ان کی نمازِ جنازہ اتوار (آج) بعد نمازِ عصر سلطان مسجد ڈی ایچ اے کراچی میں ادا کردی گئی۔
دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے معیشت اور مالی نظم و نسق کے شعبے میں ان کی گرانقدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ترجمان صدر مملکت کے مطابق تعزیتی پیغام میں انہوں نے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر شمشاد اختر کو نامور ماہرِ معاشیات اور مخلص عوامی خدمت گزار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مرحومہ نے امتیازی خدمات کے ساتھ قوم کی خدمت کی، ان کی دلی ہمدردیاں اور دعائیں سوگوار خاندان کے ساتھ ہیں۔
سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان ایک غیرمعمولی ذہن سے محروم ہو گیا ہے اور عوامی خدمت میں ان کی فکری گہرائی، علمیت اور دیانت داری کو سراہا۔
ملکی سیاست دانوں اور عالمی اداروں کی جانب سے بھی تعزیتی پیغامات سامنے آئےہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے مرحومہ کو ایک بہترین، دیانت دار ٹیکنوکریٹ قرار دیا جنہیں ہر حلقے میں احترام حاصل تھا۔
وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ ڈاکٹر شمشاد اختر بذاتِ خود ایک ادارہ تھیں اور ورلڈ بینک، اقوامِ متحدہ اور پاکستان کے معاشی اداروں میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
عالمی اداروں نے بھی ڈاکٹر شمشاد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا کہ ان کی قیادت اور پالیسی خدمات نے خطے کی ترقی پر دیرپا اثرات چھوڑے، جبکہ برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریئٹ نے انہیں پاکستان کی ایک عظیم شخصیت قرار دیا جن کا کردار ملکی معیشت کے استحکام میں اہم رہا۔
ڈاکٹر شمشاد اختر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماہرِ معاشیات اور سفارت کار تھیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ میں انڈر سیکرٹری جنرل اور ای ایس سی اے پی کی ایگزیکٹو سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں اور 2015 کے بعد کے ترقیاتی ایجنڈے کے لیے اقوامِ متحدہ کی ہم آہنگی کی قیادت کی، جبکہ جی 20 کے لیے اقوامِ متحدہ کی عالمی سطح کی رابطہ کار بھی رہیں۔
ورلڈ بینک میں وہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی نائب صدر رہیں اور عرب اسپرنگ کے دوران ادارے کے ردعمل کی قیادت کی۔ اس سے قبل انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک میں 15 برس تک اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں۔
اسٹیٹ بینک کی گورنر کے طور پر ان کے دور کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی، جن میں ایمرجنگ مارکیٹس اور دی بینکر کی جانب سے مسلسل “ایشیا کی بہترین سینٹرل بینک گورنر” کے اعزازات شامل ہیں۔ جون 2024 میں انہیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج بورڈ کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا، جس کے ساتھ وہ ملکی کیپیٹل مارکیٹ کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔
علمی اعتبار سے بھی وہ ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں فل برائٹ فیلو رہیں، برطانیہ سے ڈیولپمنٹ اکنامکس میں پی ایچ ڈی اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جبکہ قائداعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی اکنامکس کیا۔
ان کے انتقال سے پاکستان ایک ایسی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے جس میں ذہانت، دیانت اور عالمی وقار کا نادر امتزاج موجود تھا اور جن کی خدمات کا اثر برسوں تک ملکی معاشی مباحث کی رہنمائی کرتا رہے گا۔






















Comments