ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید مضبوط
انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 280.17 روپے پربند ہوا۔
یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 280.20 پر بند ہوئی تھی۔
جیسے جیسے نیا سال قریب آ رہا ہے، عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) شرح سود میں مزید کب اور کتنی کٹوتی کرے گا۔ اس وقت مارکیٹ کے ماہرین اور تاجروں کا اندازہ ہے کہ 2026 کے دوران شرح سود میں کم از کم دو بار کمی کی جائے گی، تاہم اس بات کا قوی امکان ہے کہ فیڈرل ریزرو جون 2026 سے پہلے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
مرکزی بینک نے خود آئندہ سال ایک اور شرح سود میں کمی کا امکان ظاہر کیا ہے لیکن مخالف رائے رکھنے والی فیڈرل ریزرو نے سرمایہ کاروں کو امریکی پالیسی کے مستقبل کے بارے میں محتاط کر دیا ہے۔
سرمایہ کار اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کی نامزدگی کے منتظر ہیں جو جیروم پاول کی جگہ سنبھالیں گے جن کی مدتِ ملازمت مئی 2026 میں ختم ہورہی ہے۔ اس حوالے سے ٹرمپ کے کسی بھی اشارے یا فیصلے کے آنے والے ہفتے میں مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں امریکی ڈالر پر دباؤ رہا جس سے یورو، اسٹیرلنگ اور سوئس فرانک نے حالیہ بلند ترین سطح حاصل کی۔
ڈالر انڈیکس اس ہفتے تقریباً 0.8 فیصد کی کمی کے لیے تیار ہے جو جولائی کے بعد اس کا سب سے کمزور ہفتہ وار مظاہرہ ہے۔ جمعہ کو ایشیائی اوقات میں یہ 97.935 پر مستحکم رہا۔
تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کی برابری کا ایک اہم اشارہ ہیں، جمعے کو اس وقت بڑھ گئیں جب امریکہ نے وینزویلا کی تیل ترسیلات پر زیادہ اقتصادی دباؤ ڈالا اور افریقی حکام کے تعاون سے نائجیریا کی سوکوٹو ریاست میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی حملے کیے۔
برینٹ کروڈ فیوچر عالمی معیاری وقت کے مطابق 6 بج کر 6 منٹ تک 5 سینٹ یا 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 62.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) کروڈ 6 سینٹ بڑھ کر 58.41 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

























Comments
Comments are closed.