بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اصلاحاتی پیکیج متعارف
- بندرگاہوں سے منسلک مختلف ادارے آپس میں تعاون کو مزید بہتر بنائیں تاکہ کارگو کا ڈویل ٹائم کم سے کم ہو سکے، شہباز شریف
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اصلاحات کا ایک جامع پیکیج متعارف کرایا ہے جس کا مقصد پاکستان کی بندرگاہوں میں نظام کو بہتر بنانا، کارگو میں تاخیر کم کرنا، کاروباری لاگت گھٹانا اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
یہ اصلاحات ہم آہنگی، انفرااسٹرکچر اور شفافیت جیسے اہم پہلوؤں پر مشتمل ہیں، جن کے ذریعے ملک کے تجارتی لاجسٹکس نظام کو مؤثر بنانے اور عالمی سطح پر پاکستان کی مسابقت بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس پیکیج کا اعلان بندرگاہوں سے متعلق اصلاحات کے لیے سفارشات تیار کرنے والے نجی شعبے کے ورکنگ گروپ کے اجلاس کے بعد کیا گیا، جس کی صدارت وزیرِ اعظم نے کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک کی معاشی خوشحالی کا براہِ راست تعلق بندرگاہوں کی کارکردگی سے ہے، جہاں سے اہم درآمدات اور برآمدات کا نظام چلتا ہے۔
وزیرِاعظم آفس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ بندرگاہیں کاروباری توسیع اور معاشی ترقی کی بنیاد ہیں۔
وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بندرگاہوں سے منسلک مختلف ادارے آپس میں تعاون کو مزید بہتر بنائیں تاکہ کارگو کا ڈویل ٹائم کم سے کم ہو سکے، مختلف نوعیت کے پورٹ چارجز کو مزید کم کیا جائے۔
اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کو بندرگاہوں میں سہولتوں میں بہتری اور کاروباری برادری کے مفاد میں اصلاحات کے نفاذ سے متعلق متعدد سفارشات پیش کی گئیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ کاروبار کے فروغ اور معاشی ترقی میں ہماری بندرگاہوں کا کردار انتہائی اہم ہے، انہوں نے بندرگاہوں سے وابستہ مختلف اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ امور کو مؤثر بنایا جاسکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ ان اداروں کے مابین تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ کارگو کی کارروائیوں کو تیز کیا جاسکے۔
اسی تسلسل میں وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ کاروباری شعبے کے اخراجات کم کرنے کے لیے بندرگاہی چارجز میں مزید کمی کی جائے۔ انہوں نے بندرگاہوں پر چھوڑے گئے کارگو کی نیلامی کے لیے شفاف نظام نافذ کرنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ بندرگاہوں میں پڑے متروکہ کارگو کی نیلامی کے لئے ایک شفاف نظام لایا جائے، متروکہ کارگو کے لئے ملک کی مختلف بندرگاہوں میں الگ یارڈز بنائے جائیں اور اس کے لئے عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کی خدمات لی جائیں
وزیرِ اعظم نے کارگو کی جانچ کے لئے ابتدائی ٹیسٹنگ لیب بندرگاہوں پر ہی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کارگو کے غیر ضروری لیبارٹری ٹیسٹ کا خاتمہ کیا جائے۔
مزید برآں وزیرِ اعظم نے بڑی بحری جہازوں کی آمدورفت کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان کی تمام بندرگاہوں پر ڈریجنگ اور توسیعی منصوبوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اندرونِ ملک کارگو کی ترسیل کو مؤثر بنانے کے لیے بندرگاہوں سے ریلوے رابطہ بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم نے زیاد بشیر کی سربراہی میں ورکنگ گروپ کی محنت اور ٹھوس تجاویز کو سراہا۔ زیاد بشیر نے کہا کہ پی آئی اے کی شفاف نجکاری سے پاکستان کی کاروباری برادری کے اعتماد میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔
اجلاس میں نیشنل پورٹس ماسٹر پلان پر ہونے والی تیز رفتار پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی جس میں خاص طور پر حال ہی میں فعال کیے گئے پورٹ کمیونٹی سسٹم اور مختلف بندرگاہی فیسوں میں کمی پر روشنی ڈالی گئی، جن میں پورٹ قاسم پر بلک کارگو فیس میں 50 فیصد کمی بھی شامل ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بندرگاہ کے انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کا ایک اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے جبکہ لاوارث کارگو کی نیلامی کے لیے ای بڈنگ سسٹم کے نفاذ سے ملک بھر سے شرکت ممکن ہو سکے گی۔
مزید بتایا گیا کہ کراچی کی بندرگاہوں کی توسیع اور ڈریجنگ کے منصوبوں کے لیے ٹینڈرز پہلے ہی جاری کیے جاچکے ہیں اور ان پر کام جلد شروع ہونے والا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، احد چیمہ، محمد جنید انور چوہدری، مصدق ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، صنعتوں کے لیے وزیرِ اعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.