9 مئی فیض حمید اور عمران خان کا مشترکہ منصوبہ تھا، خواجہ آصف
- فیض حمید پر اور بھی الزامات ہیں جن پر کارروائی ہوگی, وزیر دفاع
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ہفتہ کو کہا ہے کہ 9 مئی سابق انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کا مشترکہ منصوبہ تھا۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کی حمایت کے لیے 9 مئی کے واقعے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ پی ٹی آئی نے یہ پرتشدد احتجاج فیض حمید کی مدد سے انجام دیا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سابق انٹیلی جنس سربراہ کو کورٹ مارشل کے ذریعے 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، سابق آئی ایس آئی سربراہ کو پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کی متعدد دفعات کے تحت مجرم قرار دیا گیا جن میں نظم و ضبط کی خلاف ورزیاں، اختیارات کا غلط استعمال، سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا اور ریاست کی حفاظت اور مفاد کے لیے نقصان دہ رویہ شامل ہیں۔ انہیں آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی دفعات کے تحت بھی سزا دی گئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ فیض حمید کے خلاف جن الزامات پر انہیں سزا دی گئی اس کے علاوہ بھی مزید مقدمات زیر غور ہیں جن پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف کا پراجیکٹ تقریباً 12 سال قبل زور و شور سے شروع ہوا، جس میں لاہور میں پہلے جلسے کی ارینجمنٹ بھی نادیدہ ہاتھوں نے کی تھی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ نواز شریف کو سازش کے تحت اقتدار سے نکالا گیا اور قید کیا گیا جبکہ بانی کو دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا۔ فیض حمید اس پراجیکٹ کے انچارج تھے اور بانی کے مفادات کا تحفظ کر رہے تھے۔ ان دونوں نے مل کر ملک کو برباد کیا اور عوام جانتے ہیں کہ بانی نے وعدے پورے نہیں کیے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ فیض حمید نے پی ٹی آئی کے بانی کے منصوبے پر مکمل عمل درآمد شروع کر دیا اور سابق آرمی افسر نے کور کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے بھی عمران خان کی حمایت کرنے کی کوشش کی۔
وزیر دفاع کے مطابق تبادلے کے بعد فیض حمید ایکسپوز ہونا شروع ہوئے اور کور کمانڈر کی حیثیت سے انہیں سہولتیں فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ نو مئی کے واقعات کے پیچھے بھی فیض حمید کا دماغ تھا اور اس کی پلاننگ انہوں نے ہی کی تھی، جبکہ افرادی قوت پی ٹی آئی نے فراہم کی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج نے بنیان المرصوص میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا اور اگر فیض اور بانی کا منصوبہ کامیاب ہوتا تو ملک کی صورتحال خطرناک ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نندن کی گرفتاری پر فیض اور بانی کے کانپیں ٹانگ رہی تھیں اور اگر یہ گٹھ جوڑ موجود رہتا تو نہ جانے پاکستان کا کیا ہوتا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید فوجی عدالت اور آرمی چیف کے سامنے اپیل دے سکتے ہیں اور ہائی کورٹ میں بھی اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ریاست کے دشمنوں کی جوابدہی جاری رہے گی، چاہے وہ وردی میں ہوں یا عام لباس میں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بانی اور فیض کے عناصر اب بھی اندر موجود ہیں اور ملک کی صورتحال پر اثر ڈال رہے ہیں جبکہ مغربی سرحد پر بھارت کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت طالبان کو بھتہ دیتی ہے اور فیض حمید نے بانی کو تقویت دینے کے لیے طالبان کی سہولت کاری کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغربی سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس سب کے پیچھے بھارت ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے جن کے ہاتھوں پر ہمارے مسلح افواج کے اہلکاروں کا خون ہے۔
























Comments
Comments are closed.