پاک افغان مذاکرات کا تازہ دور بغیر کسی معاہدے کے ختم
- پڑوسی ممالک کا جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق
پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن مذاکرات کے نئے دور میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی، تاہم فریقین نے کمزور جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ بات دونوں ملکوں کے حکام نے بدھ کے روز بتائی ہے۔
گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات قطر، ترکی اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی اس سلسلے کی تازہ کڑی تھے، جن کا مقصد اکتوبر میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی بڑی حد تک موثر رہی ہے، تاہم گزشتہ ماہ استنبول میں ہونے والی فالو اپ بات چیت طویل المدتی معاہدہ طے کرانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
تین افغان اور دو پاکستانی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ حالیہ مذاکرات سعودی پہل کے تحت ہوئے اور ان میں پاکستان کی فوج، خفیہ اداروں اور وزارتِ خارجہ کے نمائندے شریک تھے۔
حکام نے بتایا کہ دونوں فریقین نے جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
تنازع کے بنیادی نکتے پر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود جنگجو حالیہ حملوں، جن میں افغان شہریوں کے ملوث خودکش دھماکے بھی شامل ہیں،کے پیچھے ہیں۔ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر سیکورٹی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے مذاکرات کے مقام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی اس بات کی تصدیق کی کہ مذاکرات سعودی عرب میں ہوئے۔
البتہ کابل میں سیاسی تجزیہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اسلام آباد کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف جنگجوؤں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ان الزامات کو ”تبدیل ہوتے ہوئے اور غیر مستقل“ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پاکستان کے حوالے سے پوزیشن یہی ہے کہ ہم اب بھی معاملات کو فہم و گفت و شنید کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے مزید کہا کہ اور ہم پاکستانی حکام سے کہتے ہیں کہ اپنی بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دیں اور اماراتِ اسلامیہ کے مثبت اقدامات کی قدر کریں۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ، فوج اور سعودی حکومت نے رائٹرز کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
ایک پاکستانی اہلکار کے مطابق مذاکرات میں اسلام آباد کی نمائندگی فوج، خفیہ اداروں اور وزارتِ خارجہ کے نمائندوں نے کی۔
اکتوبر میں ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں افراد مارے گئے تھے، یہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سرحد پر ہونے والی شدید ترین عسکری جھڑپیں تھیں۔
اسلام آباد کا مطالبہ ہے کہ کابل تحریری طور پر اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ وہ پاکستان مخالف گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ طالبان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری سے بڑھ کر مطالبہ ہے اور وہ پاکستان کے اندر سیکورٹی کی ضمانت دینے کی پوزیشن میں نہیں۔






















Comments
Comments are closed.