اسرائیلی فوج کا مقبوضہ مغربی کنارے میں نئے آپریشن کا اعلان
- جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج یا بستیوں کے افراد نے ایک ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا ہے
اسرائیلی فوج نے بدھ کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں دہشت گردی کے خلاف نئے آپریشن کا اعلان کیا ہے۔
فوج اور داخلی سلامتی کے ادارے نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انہوں نے شمالی سامیریا کے علاقے میں دہشت گردی کے خلاف وسیع آپریشن کے طور پر کارروائی شروع کر دی ہے، جس میں انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک حصے کے لیے بائبل کے تاریخی نام کا استعمال کیا۔
اے ایف پی کے سوال پر اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ کارروائی نئی ہے اور جنوری 2025 میں شروع کیے گئے پہلے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا حصہ نہیں، جو بنیادی طور پر فلسطینی پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بناتا تھا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ ہو گیا ہے، جس پر اسرائیل 1967 سے قابض ہے، اور یہ تشدد اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ کے باوجود جاری ہے۔
غزہ میں 10 اکتوبر سے نافذ نازک جنگ بندی کے باوجود حالات پرامن نہیں ہوئے۔
اسرائیلی پولیس کے مطابق، جینین کے قریب ایک چھاپے میں تین فلسطینی شہید ہو گئے۔
اے ایف پی کے شماریاتی اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج یا بستیوں کے افراد نے ایک ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، جن میں کئی عام شہری بھی شامل ہیں۔
سرکاری اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق، کم از کم 44 اسرائیلی، جن میں فوجی اور عام شہری شامل ہیں، فلسطینی حملوں یا اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ تازہ آپریشن مغربی کنارے میں امن قائم کرنے کی کوششوں اور تشدد کے تسلسل کے درمیان پیش آیا ہے، جس نے علاقے میں انسانی اور سیاسی صورت حال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

























Comments
Comments are closed.