جنوبی افریقہ نے کولکتہ ٹیسٹ میں بھارت کو 30 رنز سے شکست دی
- جنوبی افریقہ کی 15 سال بعد ہندوستان میں پہلی ٹیسٹ کامیابی
جنوبی افریقہ نے ایڈن گارڈنز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں بھارت کو 30 رنز سے شکست دے کر 15 سال بعد انڈیا میں اپنی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کرلی۔
کپتان ٹیمبا باووما نے شاندار قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری اننگز میں ناقابلِ شکست 55 رنز اسکور کیے اور بھارت کو مشکل وکٹ پر 124 رنز کا ہدف دیا۔ میزبان ٹیم جنوبی افریقہ کی شاندار بولنگ کے سامنے سنبھل نہ سکی اور صرف 93 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
سائمن ہارمر جنوبی افریقہ کے نمایاں بولر رہے جنہوں نے 21 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں اور بھارت کی مڈل اور لوئر آرڈر کو تہس نہس کردیا۔
کیشَو مہاراج نے بھی دو اہم وکٹیں لیں جن میں ایک ایسا بڑا شکار شامل تھا جس نے میچ کا رخ جنوبی افریقہ کی جانب موڑ دیا۔
مارکو یانسن نے اس سے قبل یشاسوی جیسوال اور کے ایل راہول کو جلد آؤٹ کرکے بھارت کو ابتدائی دھچکا دیا۔
بھارت کی امیدیں کچھ دیر کے لیے واشنگٹن سندر کے 31 رنز اور اکشر پٹیل کی تیز رفتار 26 رنز کی اننگز سے بحال ہوئیں، مگر باقی بیٹنگ لائن اپ جنوبی افریقی بولرز کے آگے نہ ٹھہر سکی۔ شبمن گل کے زخمی ہونے کے باعث بھارت ایک کھلاڑی کم کے ساتھ کھیلنے پر مجبور ہوا۔
اس سے قبل جسپریت بمراہ نے جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے 27 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں اور مہمان ٹیم کو 159 رنز تک محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
جواب میں بھارت نے 189 رنز بنائے جس میں کے ایل راہول 39 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، مگر بیٹرز اسپن اور بے قاعدہ باؤنس سے مسلسل پریشان رہے۔
رویندر جڈیجا اور کلدیپ یادیو نے جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز میں مجموعی طور پر چھ وکٹیں حاصل کیں، لیکن ہدف پھر بھی بھارت کے لیے بہت زیادہ ثابت ہوا۔ باووما کی پُرعزم اننگز نے جنوبی افریقہ کو میچ پر گرفت رکھنے میں مدد دی اور ایک تاریخی فتح مکمل کروائی۔
یہ کامیابی باووما کے بطور کپتان شاندار ریکارڈ کو مزید مضبوط کرتی ہے، جنہوں نے اب تک 11 میں سے 10 ٹیسٹ جیتے ہیں۔ دوسری جانب بھارت کو سیریز کے بقیہ میچوں کے لیے خود کو دوبارہ سنبھالنے کی ضرورت ہے۔
ایڈن گارڈنز نے ایک بار پھر سنسنی خیز مقابلہ دیکھا جہاں ڈرامائی موڑ اور شائقین کا جوش ٹیسٹ کرکٹ کی غیر متوقع فطرت کو اجاگر کرتا رہا۔






















Comments
Comments are closed.