عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی گر گئیں، جب کہ امریکا میں تیل کے ذخائر میں اضافے کی رپورٹ نے یہ خدشات مزید بڑھا دیے کہ موجودہ ایندھن کی طلب کے مقابلے میں عالمی سپلائی پہلے ہی وافر ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 3 سینٹ کمی کے ساتھ 62.69 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 3.8 فیصد گر چکا تھا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 5 سینٹ کمی کے بعد 58.44 ڈالر فی بیرل رہی، جو بدھ کے روز 4.2 فیصد گر گئی تھی۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق، امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ 7 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکا کے خام تیل کے ذخائر میں 13 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوا، اگرچہ پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں کمی آئی۔
بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر فی بیرل سے زیادہ کی گراوٹ اس وقت دیکھی گئی جب تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں بتایا کہ 2026 میں عالمی تیل کی فراہمی طلب سے کچھ زیادہ رہے گی۔ یہ پیش گوئی اوپیک کے گزشتہ تخمینوں سے مختلف ہے جن میں سپلائی کی کمی ظاہر کی گئی تھی۔
حائتونگ سیکیورٹیز کے تجزیہ کار یانگ آن کے مطابق، اوپیک کی جانب سے سپلائی میں اضافے کے اشارے نے مندی کے جذبات کو مزید تقویت دی، جبکہ امریکی تیل کے ذخائر میں اضافے نے دباؤ بڑھایا، جس کے نتیجے میں جمعرات کی صبح بھی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہا۔
اوپیک نے یہ پیش گوئی اس بنیاد پر کی کہ اوپیک پلس اتحاد، جس میں روس سمیت دیگر اتحادی ممالک شامل ہیں، اپنی پیداوار میں مزید اضافہ کریں گے۔
امریکی توانائی اطلاعاتی انتظامیہ (ای آئی اے) اپنا ہفتہ وار ڈیٹا جمعرات کو جاری کرے گی، تاہم رائٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ امریکی خام تیل کے ذخائر میں اوسطاً 20 لاکھ بیرل اضافہ ہوا ہے۔
ای آئی اے کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا کی تیل کی پیداوار اس سال پہلے کے اندازوں سے زیادہ ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ 2026 تک عالمی تیل کے ذخائر میں اضافہ جاری رہے گا کیونکہ پیداوار کی رفتار طلب سے تیز ہے۔
مارکیٹ میں مندی کے رجحان کی ایک اور علامت “کانٹینگو” صورتِ حال تھی، جس میں فوری خریداری کی قیمت آئندہ چھ ماہ کی فراہمی کے مقابلے میں 18 سینٹ کم ہوگئی، جو اضافی سپلائی کی توقعات کو ظاہر کرتی ہے۔

























Comments
Comments are closed.