جرمنی کی جانب سے پاور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک منصوبے کیلئے 2.5 ملین یورو کی اضافی فنڈنگ کا امکان
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ جرمن حکومت کی جانب سے پاکستان میں ’’ڈی کاربونائزیشن اینڈ ڈیجیٹائزیشن آف پاور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پروجیکٹ‘‘ کے تحت 2.5 ملین یورو کی اضافی فنڈنگ فراہم کرنے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ منصوبہ، جس کی کل لاگت 7 ملین یورو ہے، جرمن ترقیاتی ادارے (جی آئی زیڈ) کے تعاون سے وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) اور دیگر اہم اداروں کے اشتراک سے جاری ہے۔
جی آئی زیڈ پاکستان نے وزارتِ توانائی کو آگاہ کیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد پاور گرڈ کی کارکردگی میں بہتری، ڈیجیٹائزیشن کے فروغ، اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے توانائی کے نظام کو ماحولیاتی طور پر مستحکم بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق جرمن حکومت کی جانب سے منصوبے میں پانچواں جز شامل کرنے کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے، جس کے تحت 2.5 ملین یورو کی اضافی فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔ یہ نیا جز بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) کے پائلٹ منصوبے کی تیاری اور نفاذ پر مرکوز ہوگا۔ اس کے ساتھ متعلقہ حکام کی تربیت اور ریگولیٹری تیاری کے اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ پاکستان کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو مؤثر بنایا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے ایک اسکوپنگ مشن تشکیل دیا جائے گا جس میں جرمنی کے ریوڈیگر اسپیلکیمپ، جی آئی زیڈ پاکستان کے سربراہ جینس برِنک مین اور دیگر تکنیکی ماہرین شامل ہوں گے۔ یہ مشن سرکاری و نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کرے گا تاکہ منصوبے کے خاکے اور عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا سکے۔
وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) اس منصوبے کی شراکت دار ہے، اور جی آئی زیڈ نے سیکرٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر فخر عالم عرفان سے ملاقات کی درخواست کی ہے تاکہ بی ای ایس ایس جز کے ڈیزائن پر مشاورت کی جا سکے۔ بعد ازاں مشن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں اور دیگر اداروں سے بھی رابطہ کرے گا تاکہ منصوبے کے فنی و عملی پہلو مکمل کیے جا سکیں۔
جی آئی زیڈ کی توانائی کے شعبے میں سرگرمیاں پاکستان میں بجلی کے نظام کی جدید کاری، قابلِ تجدید توانائی کے انضمام، اور توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے پر مرکوز ہیں۔ ان اقدامات میں بیٹری اسٹوریج کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری، گرڈ کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے جدید بنانا، موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر کی حمایت، اور توانائی مؤثر تعمیرات کو فروغ دینا شامل ہے۔
پاکستان میں بڑھتی شہری آبادی کے باعث توانائی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ عمارتوں کا شعبہ گرمیوں میں ملک کی کل بجلی کھپت کا 60 فیصد سے زائد استعمال کرتا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جی آئی زیڈ پاکستان، نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (این ای ایس سی اے) کے ساتھ مل کر عمارتوں کے شعبے میں مؤثر اصلاحات پر کام کر رہا ہے۔
مزید برآں، توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے کے لیے جی آئی زیڈ نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (وی ای ٹی) پشاور میں بلڈنگز انرجی ریسرچ سینٹر قائم کرنے میں تعاون فراہم کیا ہے، جو تحقیق، تربیت اور پالیسی سازی کے ذریعے پائیدار تعمیراتی طریقوں کو فروغ دے رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.