چین کی جدید زرعی مشینری پنجاب کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے، جس کے تحت 30 ارب روپے کے میکانائزیشن پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے ، تاکہ ملک کے سب سے بڑے غذائی پیداوار والے صوبے میں زراعت کے اندر انقلاب لایا جا سکے۔
جدید کمبائن ہارویسٹرز، رائس ٹرانسپلانٹرز، سینٹر پائیوٹ آبپاشی کے نظام اور ہائی پاور ٹریکٹرز سمیت درجنوں چینی کمپنیوں کی جانب سے جدید ترین مشینری فراہم کی جائے گی، جس کا مقصد پیداوار میں اضافہ، فصل کی کٹائی کے بعد نقصانات میں کمی اور مزدوروں پر انحصار میں کمی لانا ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق یہ اقدام پنجاب میں زرعی عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے، پیداوار بڑھانے اور کسانوں کی حقیقی خوشحالی کو یقینی بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غذائی ٹوکری کہلانے والے پنجاب میں زراعت کا نیا دور شروع ہو چکا ہے۔
پروگرام کے تحت کاشتکاروں کو بغیر سود کے بینک فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی، جو زیادہ سے زیادہ 3 کروڑ روپے تک ہوگی۔ اس فنانسنگ پر چھ ماہ کی رعایتی مدت دی جائے گی اور ادائیگی کا دورانیہ پانچ سال پر محیط ہوگا۔
بینک آف پنجاب مشینری کی قیمت کا 80 فیصد فنانس کرے گا، جبکہ درخواست گزاروں کو 20 فیصد رقم بطور ایکویٹی پیشگی جمع کرانی ہوگی۔
سرکاری فہرستوں کے مطابق چینی کمپنیوں کا اس منصوبے میں غلبہ ہے، جن میں سے 27 کمپنیاں تقریباً ہر شعبے میں مشینری فراہم کریں گی۔ ان کمپنیوں اور ان کی مصنوعات سے متعلق معلومات سرکاری پروگرام دستاویزات سے حاصل کی گئی ہیں، جنہیں گوادر پرو نے رپورٹ کیا۔
چین کی آبپاشی کے شعبے میں مہارت پنجاب کے آبی نظام کو بھی بدلنے جا رہی ہے۔ وودار، شانڈونگ یی ہی اور شینزین دیان ینگ پو مختلف ماڈلز کے سینٹر پائیوٹ آبپاشی نظام متعارف کروا رہے ہیں، جن سے نہری علاقوں میں پانی کے استعمال کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
باغبانی کے لیے سنگتائی اور شانڈونگ ہوا شو کمپنیوں کی جانب سے جدید ایئر بلاسٹ اسپریئرز اور پاورڈ پرونرز فراہم کیے جائیں گے، تاکہ پھلوں کی کاشت کو جدید خطوط پر ڈھالا جا سکے۔
ہائی پاور ٹریکٹرز جو مکینائزڈ کاشتکاری کی ریڑھ کی ہڈی ہیں لیو یانگ روئیدے (210 ہارس پاور تک)، وی چائی لوول، وائی ٹی او، زوم لیون، شانڈونگ ڈا فینگ، وہان ووبوٹا، تائیان گوتال اور چونگ کنگ اسمارٹ تھنکر فراہم کریں گی۔
اس جدید مشینری کے ذریعے پنجاب کے مختلف زرعی علاقوں میں زمین کی تیاری، نقل و حمل اور کھیتوں میں کام کی رفتار تیز کرنے میں مدد دے گی۔
راولپنڈی کی پی ایم اے ایس ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کے ڈاکٹر سیف الرحمان نے کہا یہ محض سبسڈی پروگرام نہیں بلکہ ٹیکنالوجی انقلاب ہے۔ چینی مشینری فصل کی کٹائی کا وقت ہفتوں تک کم کر سکتی ہے، فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کو نمایاں طور پر گھٹا سکتی ہے اور کسانوں کو بوائی سے لے کر آبپاشی اور ذخیرہ تک ہر مرحلے کو مکینائز کرنے کے قابل بناتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.