ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم یو این او) فریم ورک کی منظوری کے عمل کو تیز کرے تاکہ ٹیلی کام سیکٹر میں مزید ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور نئی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔
باخبر ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم کو کابینہ اجلاس سے قبل مجوزہ فریم ورک پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد انہوں نے وزارت کو ہدایت دی کہ عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ تمام تیاری مکمل ہونے کے بعد فریم ورک کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو تقریباً ایک سال قبل ایم وی این او فریم ورک کا مسودہ موصول ہوا تھا، تاہم وزارت نے تاحال اسے حتمی شکل نہیں دی، حالانکہ یہ فریم ورک اسپیکٹرم نیلامی سے قبل مکمل کیا جانا تھا۔
اس فریم ورک کا بنیادی مقصد اسپیکٹرم کے تقاضوں کو واضح کرنا ہے تاکہ نیلامی کے عمل میں بہتر اور باخبر فیصلے کیے جا سکیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایم وی این او فریم ورک تیار کر کے وزارت کو منظوری کے لیے جمع کرایا تھا، مگر ایک سال گزر جانے کے باوجود وزارت کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
یہ فریم ورک ٹیلی کام سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے اور ترقی کے فروغ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے تحت چھوٹی کمپنیوں کو 15 سالہ لائسنس جاری کیے جائیں گے، جنہیں اپنے برانڈ نام کے تحت مخصوص خدمات فراہم کرنے کی اجازت ہوگی۔
پورے ملک کے لیے ایم وی این او لائسنس کی ابتدائی فیس 1 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، جو پاکستانی روپے میں نیشنل بینک آف پاکستان کے ٹی ٹی ریٹ کے مطابق ادائیگی سے ایک دن قبل ادا کی جائے گی۔
ایم وی این او کے مرکزی لائسنس ہولڈرز کو سالانہ ریگولیٹری فیسوں اور فنڈز کی ادائیگی لازمی ہوگی، جن میں یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) فیس شامل ہیں۔ یہ فیسیں موبائل نیٹ ورک آپریٹر (ایم این او) اور ایم وی این او دونوں کی مجموعی سالانہ آمدن کی بنیاد پر وصول کی جائیں گی۔ تاہم ایم وی این او کی جانب سے ایم این او کو ادا کی جانے والی کوئی رقم قابلِ کٹوتی اخراجات میں شامل نہیں ہوگی۔
ایم وی این او لائسنس ابتدائی طور پر 15 سال کے لیے جاری کیا جائے گا، جسے باہمی اتفاق سے تجدید کیا جا سکے گا۔ اگر ایم وی این او اور اس کے پیرنٹ ایم این او کے درمیان معاہدہ ختم ہو جائے تو لائسنس معطل کر دیا جائے گا اور نیا معاہدہ پیش کیے جانے پر بحال کیا جا سکے گا۔
ایم وی این او ایسا ٹیلی کام آپریٹر ہوتا ہے جو اپنا اسپیکٹرم نہیں رکھتا بلکہ ایم این اوز کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے ذریعے اپنی برانڈ کے تحت موبائل اور جدید خدمات فراہم کرتا ہے۔ یہ فریم ورک ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی 2015 کی شق 9.11.1 کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان میں ایم وی این او سروسز کی اجازت دی گئی ہے۔
اس فریم ورک کے مطابق ایم این اوز ایک یا ایک سے زائد ایم وی این اوز کے ساتھ معاہدہ کر سکتے ہیں، جس میں خدمات کی نوعیت اور دائرہ کار پی ٹی اے سے منظور شدہ ماڈل کے مطابق طے کیا جائے گا۔
ایم وی این او صارفین کو معیارِ خدمت اور اطمینان کی فراہمی یقینی بنائے گا اور پی ٹی اے کے مقررہ معیار پر عمل درآمد کا پابند ہوگا۔ ہر ایم وی این او کو اپنے فعال شہروں میں کم از کم ایک کسٹمر کیئر سینٹر قائم کرنا ہوگا اور 24 گھنٹے فعال ہیلپ لائن برقرار رکھنا ہوگی۔
مزید برآں، ایم وی این اوز کو قومی سلامتی کے تقاضوں، جیسے قانونی مداخلت، ڈیٹا مینجمنٹ اور سم ایکٹیویشن/ڈی ایکٹیویشن پروٹوکولز کی مکمل پاسداری کرنا ہوگی۔ پیرنٹ ایم این اوز پر لازم ہوگا کہ وہ ایم وی این اوز کو بلا تعطل خدمات فراہم کریں اور پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر سروس میں تبدیلی یا بندش نہ کریں۔ اسی طرح ایم وی این اوز کو بھی کم از کم تین ماہ کا نوٹس اور پی ٹی اے کی اجازت کے بغیر خدمات بند کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ایم وی این اوز کے لیے پی ٹی اے کے ڈیوائس آئیڈینٹیفیکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کی پاسداری اور چوری شدہ یا گم شدہ ڈیوائسز کے خلاف حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا بھی لازمی ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.