ملک کے سب سے بڑے اسلامی بینک، میزان بینک (ایم ای بی ایل) نے 30 ستمبر 2025 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے 23.38 ارب روپے کا مجموعی خالص منافع (پی اے ٹی) کا اعلان کیا جو پچھلے سال کی اسی مدت کے 26.21 ارب روپے کے مقابلے میں 11 فیصد کمی ہے۔
جمعہ کو اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایک) کو بھیجے گئے نوٹس کے مطابق اس مدت کے دوران فی شیئر منافع (ای پی ایس) 12.65 روپے رہا جو مالی سال 24 کی تیسری سہ ماہی میں 14.52 روپے تھا۔
بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سہ ماہی اور نو ماہ کی مدت (30 ستمبر 2025 تک) کے لیے فی شیئر 7 روپے کا عبوری کیش ڈیوڈنڈ بھی اعلان کیا، یعنی 70 فیصد، جو پہلے ادا شدہ فی شیئر 14 روپے (140 فیصد) عبوری ڈیوڈنڈ کے علاوہ ہے۔
بینک کے اسلامی مالیات اور متعلقہ اثاثوں، سرمایہ کاری اور پلیسمنٹس پر حاصل ہونے والے خالص منافع میں تقریباً 19 فیصد کمی ہوئی اور یہ 62.47 ارب روپے تک رہ گئی۔
اس مدت کے دوران بینک کی فیس اور کمیشن آمدنی 7.8 ارب روپے رہی، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے 6.99 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
کمپنی کی فارن ایکسچینج آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا، جو مالی سال 24 کی تیسری سہ ماہی میں 29 ملین روپے سے بڑھ کر مالی سال 25 کی تیسری سہ ماہی میں 2.75 ارب روپے تک پہنچ گئی، یعنی تقریباً 93 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم میزان بینک کی مجموعی آمدنی 11 فیصد کم ہو کر مالی سال 25 کی تیسری سہ ماہی میں 73.8 ارب روپے رہی، جو مالی سال 24 کی تیسری سہ ماہی میں 83.05 ارب روپے تھی۔
مالی سال 25 کی تیسری سہ ماہی کے دوران بینک کے آپریٹنگ اخراجات 26.5 ارب روپے تک پہنچ گئے جو پچھلے سال کی اسی مدت کے 22.1 ارب روپے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔
نتیجتاً بینک کا قبل از ٹیکس منافع 48.4 ارب روپے رہا جو 58.3 ارب روپے کے مقابلے میں 17 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔
اسلامی بینک نے مالی سال 25 کی تیسری سہ ماہی میں 25 ارب روپے کے ٹیکس ادا کیے جو 22 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

























Comments
Comments are closed.