BR100 Decreased By (-0.02%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Decreased By (-0.01%)
KSE30 Decreased By (-0.02%)
BAFL 57.04 Increased By ▲ 0.17 (0.3%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.33 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
CNERGY 13.13 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
DFML 16.66 Increased By ▲ 0.76 (4.78%)
DGKC 192.20 Decreased By ▼ -0.25 (-0.13%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.78 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
FFL 14.71 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
GGL 19.37 Decreased By ▼ -0.19 (-0.97%)
HBL 306.89 Increased By ▲ 0.79 (0.26%)
HUBC 201.05 Decreased By ▼ -0.37 (-0.18%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
OGDC 315.30 Decreased By ▼ -1.43 (-0.45%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.80 Increased By ▲ 0.12 (0.82%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.75 Decreased By ▼ -2.16 (-0.95%)
PRL 93.10 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.78 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 7.88 Increased By ▲ 0.08 (1.03%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.55 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
دنیا

امریکی فیڈ رواں سال مزید دو بار شرحِ سود میں کمی کرے گا؛ 2026 کے لیے شرحِ سود کا راستہ غیر واضح

  • رائٹرز کے ماہرینِ اقتصادیات کے سروے کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو آئندہ ہفتے اپنی کلیدی شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کرے گا اور دسمبر میں ایک بار پھر کمی متوقع ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی فیڈرل ریزرو آئندہ ہفتے اپنی کلیدی شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کرے گا اور دسمبر میں ایک بار پھر یہ کمی متوقع ہے، تاہم ماہرِ ین اقتصادیات اس بات پر منقسم ہیں کہ آئندہ سال کے اختتام تک شرحِ سود کہاں تک پہنچے گی۔ یہ بات رائٹرز کے ایک تازہ سروے میں کہی گئی ہے۔

ایک ماہ قبل ماہرین معاشیات کو توقع تھی کہ رواں سال صرف ایک بار مزید کمی ہوگی مگر فیڈ پالیسی سازوں کی جانب سے حالیہ اندازوں میں تبدیلی کے بعد اب مزید کمیوں کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔

ماہرین اقتصادیات کے اس سروے کے مطابق فیڈ اس وقت دو خطرات کے درمیان ہے، ایک جانب بلند افراطِ زر جو محصولات (ٹیرف) کے باعث مزید بڑھ سکتا ہے اور دوسری جانب لیبر مارکیٹ کی کمزوری۔ بظاہر فیڈ نے مزدور منڈی کو ترجیح دیتے ہوئے گزشتہ ماہ دسمبر کے بعد پہلی مرتبہ شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کی۔

117 میں سے 115 ماہرینِ اقتصادیات نے پیشگوئی کی ہے کہ فیڈ 29 اکتوبر کو شرحِ سود میں مزید ایک چوتھائی پوائنٹ کی کمی کر کے اسے 3.75 تا 4.00 فیصد کی حد میں لے آئے گا۔ دو ماہرین کا خیال ہے کہ اکتوبر میں 25 بیسس پوائنٹس اور دسمبر میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جائے گی۔

دسمبر میں ایک اور کمی کے امکان سے اتفاق کرنے والے ماہرین کا تناسب کم ہو کر 71 فیصد رہ گیا ہے۔ یہ سروے 15 تا 21 اکتوبر کے دوران کیا گیا ہے۔

مالیاتی منڈیوں کے تاجر زیادہ پُراعتماد نظر آتے ہیں اور انہوں نے شرحِ سود کے فیوچرز میں رواں سال دو مزید کمیوں کو مکمل طور پر مدِنظر رکھ لیا ہے۔

فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف او ایم سی) کے کئی ارکان، بشمول چیئرمین جیروم پاول، نے اشارہ دیا ہے کہ وہ روزگار کی منڈی پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے۔

تاہم امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن، جو اب تک 3 ہفتوں سے جاری ہے، نے روزگار اور مہنگائی سے متعلق اہم سرکاری اعداد و شمار کے اجرا میں تاخیر پیدا کر دی ہے، جس سے معاشی منظرنامہ دھندلا گیا ہے۔

ایچ ایس بی سی کے امریکی ماہرِ اقتصادیات رائن وانگ نے کہا ہے کہ “یہ کہنا مناسب ہوگا کہ موجودہ فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی ( ایف او ایم سی) کا تقریباً نصف حصہ لیبر مارکیٹ پر زیادہ توجہ دے رہا ہے جبکہ باقی نصف مہنگائی کے خطرات پر مرکوز ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ فیڈ کے لیے اصل دشواری یہ جاننا ہے کہ آیا روزگار میں سست روی زیادہ طلب کی کمی کی وجہ سے ہے یا مزدوروں کی دستیابی میں رکاوٹ کے باعث۔ ان دونوں میں فرق واضح طور پر متعین کرنا مشکل ہے اور یہی بات مانیٹری پالیسی کے ردِعمل کے طریقہ کار پر اثرانداز ہوتی ہے۔

حالیہ نجی شعبے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملازمتوں میں کمی اور بھرتیاں دونوں معمولی ہیں، جس سے روزگار کی منڈی میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آتا۔

سروے کے اوسط نتائج کے مطابق بیروزگاری کی شرح 2027 تک سالانہ تقریباً موجودہ سطح یعنی 4.3 فیصد کے آس پاس رہے گی جو گزشتہ ماہ کے اندازوں سے خاصی حد تک ہم آہنگ ہے۔

مہنگائی، جس کا فیڈ کا ہدف 2 فیصد ہے (ذاتی کھپت کے اخراجات کے پیمانے پر)، تازہ ترین سروے کے مطابق 2027 تک سالانہ 2 فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے۔

تاخیر کا شکار سرکاری اعداد و شمار، جو 24 اکتوبر کو جاری ہونے والے ہیں، سے توقع ہے کہ صارف مہنگائی اگست کے 2.9 فیصد سے بڑھ کر ستمبر میں 3.1 فیصد تک پہنچ گئی۔

ماہرینِ اقتصادیات آئندہ سال کے اختتام تک شرحِ سود کے حوالے سے سات مختلف گروپوں میں منقسم ہیں، ان کے اندازے 2.25 تا 2.50 فیصد سے لے کر 3.75 تا 4.00 فیصد تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی غیر یقینی کی ایک بڑی وجہ یہ قیاس آرائی ہے کہ مئی میں جیروم پاول کی مدت پوری ہونے کے بعد نیا فیڈ چیئرمین کون ہوگا۔

ایک الگ سوال کے جواب میں 33 میں سے 25 ماہرین (یعنی 76 فیصد) نے کہا ہےکہ اس پالیسی سائیکل کے اختتام پر سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ فیڈ شرحِ سود کو ضرورت سے زیادہ کم کر دے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی ماہ سے جیروم پاول پر شرحِ سود میں جارحانہ کمی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ڈوئچے بینک کے سینئر امریکی ماہرِ اقتصادیات بریٹ رائن کے مطابق “خطرہ یہ ہے کہ آئندہ سال مزید شرحِ سود میں کمی کی جا سکتی ہے۔ فیڈ کی خودمختاری کے کمزور پڑنے کا امکان سابقہ کسی بھی انتظامیہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔”

Comments

Comments are closed.