وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا شفافیت یقینی بنانے اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے جامع اصلاحات کا اعلان
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اتوار کے روز اپنے پہلے باضابطہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عوامی مینڈیٹ کے تحفظ، شفافیت کو یقینی بنانے اور صوبے میں سیاسی آزادیوں کو مستحکم کرنے کے لیے اہم انتظامی و حکومتی اصلاحات کے سلسلے کا اعلان کیا ہے۔
8 فروری 2024 کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی اور پولیس نے “دباؤ کے باوجود ڈٹ کر عوامی فیصلے کا دفاع کیا۔”پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)، جو صوبے میں حکمران جماعت ہے، نے ایک بیان میں یہ بات کہی ہے۔
انہوں نے ان افسران جو بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے اور غیر جانب دار رہے،کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں انعام دیا جائے گا جبکہ عوامی اعتماد پر پورا نہ اترنے والے افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
سہیل آفریدی نے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ ان افسران کی نشاندہی کریں جنہوں نے انتخابی عمل کے دوران جمہوری اصولوں کی پاسداری نہیں کی، اور ان کے خلاف کارروائی شروع کریں۔
انہوں نے کہا کہ “ہم دیانت داری کو انعام دیں گے اور بدعنوانی پر سزا دیں گے، احتساب سے بالاتر دور ختم ہو چکا ہے۔”
ایک اہم اعلان میں وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے مقتول صحافی ارشد شریف کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے نام سے “یونیورسٹی آف انویسٹی گیٹو اینڈ ماڈرن جرنلزم” کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے اسے پاکستان میں آزاد صحافت اور تحقیقی رپورٹنگ کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
“شفاف اور عوام دوست طرزِ حکمرانی” کے عزم کو دہراتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف سخت یعنی زیرو ٹالرینس پالیسی نافذ کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ “کرپشن میں ملوث کوئی بھی افسر بخشا نہیں جائے گا۔ ہر سرکاری ملازم کو عوامی خدمت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ جو افسر عوامی توقعات پر پورا نہیں اتریں گے وہ اپنے عہدوں پر برقرار نہیں رہیں گے۔”
صوبے کی جمہوری روایت پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ کسی سیاسی کارکن کو عوامی نظم و نسق کے قانون (ایم پی او) کی دفعہ 3 کے تحت گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ “اظہارِ رائے کی آزادی آئینی حق ہے۔ سیاسی آزادیوں کا احترام کیا جائے گا اور سیاسی بنیادوں پر درج کی گئی ایف آئی آرز کے تحت کوئی گرفتاری نہیں ہوگی۔” انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ خیبر پختونخوا کی سیاسی رواداری اور آئینی آزادیوں کی روایت کو برقرار رکھا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ان کی حکومت کا مقصد “حقیقی تبدیلی” لانا ہے، نہ کہ روایتی طرزِ حکمرانی کو دہرانا۔ انہوں نے کہا کہ “میں روایتی انداز میں حکومت کرنے نہیں آیا، میں حقیقی تبدیلی لانے آیا ہوں تاکہ عوام محسوس کریں کہ ان کا ووٹ واقعی اہمیت رکھتا ہے۔”






















Comments
Comments are closed.