رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) نے حال ہی میں قائم ہونے والے نیشنل ایگری ٹریڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی بورڈ میں اپنی شمولیت نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، حالانکہ وزیرِاعظم کی واضح ہدایات اس شمولیت کے حق میں تھیں۔
ریپ کے مطابق نیشنل ایگری ٹریڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی بورڈ میں اس کی شمولیت نہ ہونا نہ صرف وزیرِاعظم کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے بلکہ پودوں پر مبنی تجارتی شعبے کی نمائندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ نافسا ایکٹ کی شق 4(ای ) کے تحت بورڈ میں پودوں پر مبنی ایک تجارتی ایسوسی ایشن کا نمائندہ شامل ہونا ضروری ہے۔
ریپ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پودوں پر مبنی برآمدات 8 ارب ڈالر کے قریب ہیں، جن میں سے ریپ کے ارکان 5.5 ارب ڈالر کا حصہ رکھتے ہیں، جن میں چاول، مکئی اور تل شامل ہیں۔ اسی بنیاد پر وہ خود کو نافسا بورڈ کے لیے سب سے موزوں نمائندہ سمجھتے ہیں۔
ریپ کے چیئرمین فیصل نے کہا کہ چاول کی برآمدات کو یورپی یونین، امریکہ، آسٹریلیا اور دیگر حساس منڈیوں میں ایس پی ایس مسائل کا سامنا رہتا ہے، اس لیے ریپ کی موجودگی بورڈ میں مؤثر فیصلے اور برآمدات میں بہتری لائے گی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نافسا بورڈ میں ریپ کو شامل کر کے اس ناانصافی کا فوری ازالہ کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025
























Comments
Comments are closed.