اضافی سپلائی اور امریکہ چین تجارتی کشیدگی سے مارکیٹ پر دباؤ، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں
خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو کمی ریکارڈ کی گئی جس سے پچھلے سیشن کے نقصانات میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ سرمایہ کاروں نے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کی جانب سے 2026 میں سرپلس سپلائی کے انتباہ اور امریکہ چین تجارتی کشیدگی جو تیل کی طلب کو کم کر سکتی ہے پر غور کیا۔
برنٹ کروڈ فیوچرز 21 سینٹ یا 0.3 فیصد کی کمی سے 62.18 ڈالر فی بیرل پر آگیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 16 سینٹ یا 0.3 فیصد کی کمی سے 58.54 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کیا گیا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے منگل کو کہا کہ عالمی تیل مارکیٹ کو آئندہ سال یومیہ تقریباً 4 ملین بیرل کے اضافی ذخائر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو اس نے پہلے پیش گوئی کی گئی مقدار سے زیادہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اوپیک پلس کے رکن ممالک اور ان کے حریف پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں جبکہ تیل کی طلب (ڈیمانڈ) میں سستی برقرار ہے۔
ایل ایس ای جی کے سینئر آئل اینالسٹ ایمریل جمیل نے کہا کہ مارکیٹ مخلوط طلب کے اشاروں کے درمیان اضافی سپلائی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ کم ہوتے جغرافیائی سیاسی خطرات اور بڑھتے تجارتی تنازعات بھی قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال رہے ہیں۔
امریکہ اور چین دنیا کے دو بڑے تیل صارفین، کے درمیان تجارتی تنازعہ گزشتہ ہفتے دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے درمیان سامان لے جانے والے جہازوں پر اضافی پورٹ فیس عائد کر دی ہے۔
یہ تجارتی لاگت میں اضافہ کرے گا اور مال برداری کے بہاؤ کو متاثر کرے گا، جس سے ممکنہ طور پر اقتصادی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔
آئی جی مارکیٹ اینالسٹ ٹونی سائی کیمور نے کہا کہ توجہ امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ تجارتی تنازعات کی دوبارہ شدت اور اس سے عالمی معیشت پر پیدا ہونے والے خطرات پر مرکوز رہے گی۔






















Comments
Comments are closed.