عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کمی کے ابتدائی اشاروں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا اور ایندھن کی عالمی طلب سے متعلق خدشات میں کچھ نرمی آئی۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کے روز کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ماہ کے آخر میں جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے پُرعزم ہیں، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف اور برآمدی پابندیوں سے متعلق کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اختتامِ ہفتہ کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطے ہوئے اور مزید ملاقاتوں کی توقع ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 18 سینٹ (0.28 فیصد) اضافے سے 63.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 16 سینٹ (0.27 فیصد) بڑھ کر 59.65 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوئی۔ گزشتہ سیشن میں برینٹ 0.9 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی ایک فیصد بلند سطح پر بند ہوئی تھیں۔
دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری کا امکان تیل کی منڈیوں کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ سرمایہ کار اس سے عالمی اقتصادی نمو اور ایندھن کی طلب میں اضافے کی توقع کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ اقدامات، جن میں بیجنگ کی جانب سے ریئر ارتھ معدنیات پر نئی برآمدی پابندیاں اور ٹرمپ کی جانب سے نومبر سے 100 فیصد ٹیرف اور سافٹ ویئر برآمدی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی شامل ہیں، سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔
ادھر، اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک بشمول روس نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 2026 میں تیل کی فراہمی میں کمی کا فرق کم ہو جائے گا کیونکہ اوپیک پلس گروپ منصوبہ بندی کے مطابق پیداوار میں بتدریج اضافہ جاری رکھے گا۔
تجزیہ کار ڈینیئل ہائنز کے مطابق، تیل کی صنعت بدستور جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے نبردآزما ہے، جن میں چین کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر نئے محصولات عائد کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے، جس سے شپنگ ریٹس میں اضافہ دیکھا گیا۔

























Comments
Comments are closed.