دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن نے پیر کے روز اپنی نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی، کیونکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے اس کی مانگ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
سال کے آغاز سے جاری یہ تیزی بنیادی طور پر ادارتی سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نسبتاً موافق پالیسیوں اور عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ بِٹ کوائن کے بڑھتے تعلق کے باعث دیکھی جا رہی ہے۔
پیر کو بِٹ کوائن کی قیمت بڑھ کر 125,835.92 ڈالر تک پہنچ گئی، جو اتوار کو پہلی بار 125,000 ڈالر کی حد عبور کرنے کے بعد ایک نیا ریکارڈ ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پیر کے روز 2.02 فیصد اضافے کے ساتھ 125,253.63 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا، جو مسلسل دوسرے دن کی تیزی کو ظاہر کرتا ہے۔ کرپٹو کرنسی کی قیمت میں رواں سال اب تک 33 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔
پروفیشنل کیپیٹل مینجمنٹ کے بانی اور سی ای او انتھونی پومپلِیانو نے سرمایہ کاروں کے نام اپنے خط میں لکھا کہ بِٹ کوائن اب ایک معیار بن چکا ہے، اگر آپ اس سے بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکتے تو اسے خریدنا ہی بہتر ہے۔ آنے والے 12 ہفتے بِٹ کوائن ہولڈرز کے لیے بہت دلچسپ ہوں گے۔
بِٹ کوائن کی حالیہ تیزی کا تعلق امریکی ڈالر کی کمزوری سے بھی جوڑا جا رہا ہے، کیونکہ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف عائد کرنے اور ان کے ممکنہ اثرات کے باعث سرمایہ کار امریکی اثاثوں سے سرمایہ ہٹا کر متبادل ذرائع کی طرف جا رہے ہیں۔
ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کو ین اور یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ماپتا ہے، 98.09 پر مستحکم رہا، تاہم رواں سال اس میں 10 فیصد کی کمی دیکھی جا چکی ہے۔
ٹریڈ نیشن کے سینئر تجزیہ کار ڈیوڈ موریسن کے مطابق بِٹ کوائن نے گزشتہ ہفتے مختصراً 110,000 ڈالر سے نیچے گرنے کے بعد سے مسلسل تیزی دیکھی ہے۔ موجودہ ریلی کے نتیجے میں 28 ستمبر سے اب تک اس کی قدر میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کا ایم اے سی ڈی (موونگ ایوریج کنورجنس ڈائیورجنس) روزانہ کی بنیاد پر تیزی سے اوپر جا رہا ہے، جو اس کے مثبت رجحان کو ظاہر کرتا ہے، تاہم ممکن ہے کہ قیمت کو مزید اضافے سے قبل کچھ عرصے کے لیے مستحکم ہونا پڑے۔





















Comments
Comments are closed.