اوپن اے آئی 500 ارب ڈالر کی کمپنی بن گئی، سرمایہ کاروں نے 6.6 ارب ڈالر کے حصص خرید لیے
چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی معروف کمپنی اوپن اے آئی کی مجموعی مالیت 500 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے، جو ایک حالیہ معاہدے کے تحت موجودہ اور سابق ملازمین کی جانب سے تقریباً 6.6 ارب ڈالر مالیت کے حصص کی فروخت کے بعد سامنے آئی۔
اس بات کی تصدیق رائٹرز کو ایک باخبر ذریعے نے کی، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ یہ تازہ تخمینہ کمپنی کی سابقہ 300 ارب ڈالر کی مالیت میں نمایاں اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جو نہ صرف صارفین کی تعداد بلکہ آمدنی میں بھی تیز رفتار ترقی کا مظہر ہے۔
رائٹرز نے رواں برس اگست میں اس معاہدے کی ابتدائی تفصیلات رپورٹ کی تھیں۔ذرائع کے مطابق اس ثانوی حصص فروخت کے تحت اوپن اے آئی کے ملازمین نے اپنے حصص ایک سرمایہ کار کنسورشیم کو فروخت کیے، جس میں تھرائیو کیپیٹل، سافٹ بینک، ڈریگونیئر انویسٹمنٹ گروپ، ابوظہبی کا ایم جی ایکس اور ٹی رو پرائس شامل ہیں۔
کمپنی نے ثانوی مارکیٹ میں 10 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے حصص فروخت کرنے کی منظوری دے رکھی ہے۔ ابھی تک متعلقہ سرمایہ کار اداروں نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
یہ تازہ سرمایہ کاری سافٹ بینک کی اُس ابتدائی شمولیت کے علاوہ ہے، جو اس نے اوپن اے آئی کے 40 ارب ڈالر کے بنیادی فنڈنگ راؤنڈ میں کی تھی۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ دی انفارمیشن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے 2025 کی پہلی ششماہی میں تقریباً 4.3 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جو کہ گزشتہ پورے سال کی آمدنی سے تقریباً 16 فیصد زیادہ ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب عالمی ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ماہر افراد کو پرکشش تنخواہوں اور مراعات کے ذریعے اپنی جانب متوجہ کرنے میں سرگرم ہیں۔
اسی تناظر میں میٹا نے بھی اسکیل اے ون میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور کمپنی کے 28 سالہ بانی و سی ای او الیگزاندر وانگ کو اپنے نئے سپر انٹیلیجنس یونٹ کی سربراہی سونپی ہے۔






















Comments
Comments are closed.