اسٹیٹ بینک بحران زدہ بینکوں سے نمٹنے اور ڈپازٹرز کے مفادات کے تحفظ کے لیے ریزولوشن اتھارٹی مقرر
- مرکزی بینک نے بحران زدہ / مسائل کا شکار بینکوں کے منظم حل کے لیے "فنانشل انسٹی ٹیوشنز ریزولوشن ڈیپارٹمنٹ" قائم کر دیا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کو بحران زدہ اور مسائل کا شکار بینکوں سے بروقت نمٹنے، مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے اور جمع کنندگان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ریزولوشن حکمتِ عملی کی تیاری اور اس پر عمل درآمد کا مجاز ادارہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ بات پیر کے روز سامنے آئی ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے بحران زدہ/مسائل کا شکار بینکوں، مائیکروفنانس بینکوں ( ایم ایف بیز) اور ڈویلپمنٹ فنانس اداروں ( ڈی ایف آئیز) کے منظم حل کے لیے فنانشل انسٹی ٹیوشنز ریزولوشن ڈیپارٹمنٹ ( ایف آئی آر ڈی) قائم کر دیا ہے۔
مرکزی بینک نے مالیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے آپریشنز سے متعلق معلومات فراہم کریں کیونکہ ریزالوشن پلاننگ کو بحران زدہ بینکوں کے منظم حل کے لیے پیشگی تیاری کا ایک لازمی عنصر سمجھا جاتا ہے۔
بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 دسمبر 2025 کی مالیاتی پوزیشن کی بنیاد پر درکار ابتدائی معلومات کا پہلا سیٹ تیار کریں اور 30 اپریل 2026 تک اسٹیٹ بینک کو تصدیق بھجوائیں۔
مزید برآں بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی معلومات میں سالانہ یا اس سے زیادہ تواتر سے تازہ کاری کریں تاکہ کاروباری سرگرمیوں، گروپ اسٹرکچر یا اہم اداروں میں کسی بھی تبدیلی کو مدنظر رکھا جا سکے۔
درکار معلومات اور ڈیٹا کی بروقت فراہمی ریزولوشن پلانز کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
اعلامیہ کے مطابق بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اعلیٰ سطح کے کسی عہدیدار، ترجیحاً چیف رسک آفیسر ( سی آر او) یا چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او)، کو نامزد کریں، جس کی اطلاع ایف آئی آر ڈی کو دی جائے، جو اندرونی رابطہ کاری، معلومات کی فراہمی اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ ریزولوشن پلاننگ سے متعلق تمام امور کی نگرانی کا ذمہ دار ہو گا۔
مسائل کے شکار بینکوں کے لیے ریزولوشن پلان اور حکمتِ عملی میں ایسے ریزولوشن ٹولز شامل ہو سکتے ہیں جیسے کہ واجبات کا بیل اِن، تنظیمِ نو، انضمام، برج بینک کا قیام وغیرہ، جیسا کہ ریزولوشن پلاننگ کے لیے بنیادی معلومات کی رہنما ہدایات میں بیان کیا گیا ہے۔
پلان کا اختتام ریزولیبیلٹی اسسمنٹ پر ہوتا ہے، جس کا مقصد بینک کی ریزولوشن میں حائل ممکنہ رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کا ازالہ ہے۔ “ایسی رکاوٹوں میں ناکافی لاس ابسوربنگ صلاحیت، آپریشنل تسلسل قائم رکھنے میں ناکامی، یا مالیاتی معاہدوں کے بےترتیب قبل از وقت خاتمے سے بچاؤ میں ناکامی شامل ہو سکتی ہیں۔
مرکزی بینک نے مالیاتی اداروں سے پانچ بڑے زمروں میں کلیدی معلومات طلب کی ہیں: (1) ڈپازٹس، جیسے ریٹیل، کارپوریٹ اور سرکاری ڈپازٹس؛ (2) قرض دہی اور قرضوں کی سروسنگ، جیسے کارپوریٹ/کمرشل، ایس ایم ای، کنزیومر اور زرعی قرضے؛ (3) ادائیگیاں، کلیئرنگ، کسٹڈی اور سیٹلمنٹ، جیسے نقدی، ریٹیل اور ہول سیل سیٹلمنٹس؛ (4) ہول سیل فنڈنگ مارکیٹس، جیسے سیکیورٹیز فنانسنگ، ہول سیل لینڈنگ اور سیکیورٹیز لینڈنگ؛(5) کیپیٹل مارکیٹس اور سرمایہ کاری، جیسے قرض اور دیگر سیکیورٹیز، اثاثہ جات کا انتظام اور انشورنس۔






















Comments
Comments are closed.