امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے، جس میں غزہ جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امن منصوبے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب کئی مغربی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کو بین الاقوامی تنہائی کا سامنا ہے۔
نیتن یاہو جو رواں سال چوتھی بار امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں، غزہ میں حماس کے خلاف جاری جنگ کے باعث بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں اقوام متحدہ میں ان کی تقریر کے دوران کئی نمائندوں نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا تھا۔
ٹرمپ نے روئٹرز سے گفتگو میں امید ظاہر کی ہے کہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ ایک امن فریم ورک پر متفق ہو جائیں گے ,تاکہ جنگ کا خاتمہ، یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینیوں کے ساتھ بات چیت کی راہ ہموار ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ نے عرب اور مسلم ممالک کو 21 نکاتی امن تجویز ارسال کی ہے، جس میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی کوششوں کا خاکہ شامل ہے۔
ادھر اسرائیل میں نیتن یاہو پر جنگ کے طویل ہونے، یرغمالیوں کی بازیابی اور بین الاقوامی دباؤ کے حوالے سے عوامی اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔























Comments
Comments are closed.