پاکستان نے اقوام متحدہ سے کمزور ممالک کیلئے موسمیاتی فنڈنگ میں اضافے کا مطالبہ
وزیراعظم شہبازشریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی جس میں پاکستان جیسے کمزور ممالک کیلئے اضافی موسمیاتی فنانس کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم نے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا جس میں اقوام متحدہ سب سے اہم عالمی مسائل سے نمٹنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران حکومت کی امدادی کوششوں کی تعریف کرنے پر سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عالمی سطح پر مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جن میں ایسے ممالک جیسے پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اضافی موسمیاتی مالی معاونت کی فراہمی بھی شامل ہے۔
حالیہ سیلاب نے پاکستان میں تباہی مچادی ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور نقدی کی کمی کا شکار جنوبی ایشیائی ملک میں مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
ملاقات کے دوران شہباز شریف نے عالمی امن و استحکام کو فروغ دینے کے علاوہ ترقی پذیر ملکوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی نظم و نسق کو مضبوط بنانے میں اقوام متحدہ کے کردار پر سیکرٹری جنرل کی مدبرانہ قیادت کو سراہا۔
وزیراعظم نے پاکستان جیسے سب سے زیادہ آب و ہوا کے خطرے سے دوچار ممالک پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اضافی مالیاتی اقدامات سمیت مربوط بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے جموں و کشمیر کا تنازع، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور پاکستان میں بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی سمیت قومی اور علاقائی اہمیت کے اہم مسائل سے نمٹنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر تنازعہ کے منصفانہ اور پُرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔
غزہ کے سلگتے ہوئے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے فوری اور مستقل جنگ بندی، انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے مستقل سیاسی عمل کے آغاز کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دریں اثنا سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مضبوط آواز اور اہم کردار کو سراہا۔
دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی امن و ترقی کو فروغ دینے میں اقوام متحدہ کے ناگزیر کردار کو مزید مستحکم اور بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

























Comments
Comments are closed.