معاشی سست روی کے باوجود پاکستانی دوا ساز اداروں کا برآمدات پر 500 ملین ڈالر کا داؤ، رپورٹ
پاکستانی دوا ساز کمپنیاں خلیج فارس سے یورپ تک کے نئے بازاروں میں برآمدات کے فروغ کی کوشش میں تیزی سے اپنی فیکٹریاں جدید خطوط پر استوار کر رہی ہیں۔ یہ بات بلوم برگ نے ایک رپورٹ میں کہی ہے۔
مارٹن ڈاؤ گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید غلام محمد کے مطابق درجن سے زائد ادویہ ساز کمپنیاں اپنی فیکٹریوں کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے 50 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں تاکہ وہ غیر ملکی ضوابط کی تکمیل کو یقینی بنا سکیں۔
مارٹن ڈاؤ گروپ، پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کا رکن ہے، جو اس اقدام کی حمایت کر رہی ہے۔ دوا سازی کے شعبے کی یہ پیش قدمی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک معیشت کو سہارا دینے کے لیے مجموعی برآمدات میں اضافے کی کوشش کر رہا ہے۔
مالی سال 2023-24 میں پاکستان کی دوا ساز صنعت نے گزشتہ دو دہائیوں میں برآمدات میں تیز ترین اضافہ ریکارڈ کیا، جو سالانہ 34 فیصد بڑھ کر 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ حکام کے مطابق اس اضافے کی وجہ بہتر بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگی اور علاقائی منڈیوں، خاص طور پر افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں طلب میں اضافہ ہے۔
اس صنعت کا زیادہ تر انحصار مقامی منڈی پر ہے، تاہم ترقی یافتہ معیشتوں میں اسے سخت ضابطوں اور شدید مسابقت کا سامنا ہوگا۔ جنوبی ایشیائی ملک جو زیادہ توانائی لاگت اور سست معاشی نمو سے دوچار ہے، اب تک بڑے پیمانے پر برآمد کنندہ بننے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
جاوید غلام محمد کے مطابق بھارت اور بنگلہ دیش کی دوا ساز صنعتیں پاکستان کے لیے ایک عملی نمونہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ”اگر آپ بھارت اور بنگلہ دیش کی برآمدات کو دیکھیں تو وہ بہت آگے ہیں۔“
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے یونائیٹڈ بزنس گروپ کے مطابق فارما سیوٹیکل شعبے کی مجموعی مالیت مالی سال 2023-24 میں 3.29 ارب ڈالر رہی، جب کہ اسی سال برآمدات 341 ملین ڈالر تک پہنچیں۔ یہ شعبہ ملکی جی ڈی پی میں ایک فیصد سے زائد حصہ دیتا ہے اور ہر سال تقریباً 2 ارب ڈالر کی درآمدی متبادل بچت فراہم کرتا ہے۔
وفاق نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر حکومت پالیسی معاونت فراہم کرے اور کمپنیاں عالمی اسناد حاصل کر لیں تو ادویات کی برآمدات سالانہ 5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کی دوا ساز برآمدات میں مالی سال 2024 کے اختتام تک 34 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ جاوید غلام محمد کے مطابق اگر بیرونی منڈیوں میں رسائی کی کوشش کامیاب ہو جائے تو آٹھ برسوں میں یہ برآمدات 5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے یہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی مصنوعات میں شامل ہو جائیں گی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق افغانستان، فلپائن، سری لنکا، ازبکستان اور عراق پاکستانی ادویات کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، جب کہ کینیا، ویتنام، میانمار اور تھائی لینڈ بھی نمایاں برآمدی امکانات رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی دوا ساز برآمدات 2030 تک عالمی سطح پر 1.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
ملک کی تقریباً 650 دوا ساز کمپنیاں 25 کروڑ آبادی کو 3.2 ارب ڈالر کی منڈی میں خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ جاوید غلام محمد کے مطابق پاکستان میں فی کس ادویات پر خرچ خطے میں سب سے کم ہے۔
حالیہ برسوں میں کرنسی کی قدر میں کمی اور حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں پر حد بندی نے منافع کو متاثر کیا ہے، جس سے بعض کمپنیاں مالیاتی دباؤ میں آ گئی ہیں۔ اگرچہ کچھ قیمتوں کی حدیں ختم کی جا چکی ہیں، لیکن ملک کی بڑی دوا ساز کمپنیاں اب بیرونی منڈیوں کا رخ کر رہی ہیں۔
مارٹن ڈاؤ، جو پاکستان کی بڑی دوا ساز کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، گزشتہ پانچ برسوں سے سالانہ 20 فیصد کی شرح سے فروخت میں اضافہ کر رہی ہے اور اس نے روچ ہولڈنگ اے جی کی مصنوعات تیار کرنے کے حقوق حاصل کیے ہیں، جس سے اس کی درآمدی لاگت میں 50 فیصد کمی آئی ہے۔
کمپنی اپنی فیکٹریوں کو جدید بنانے کے لیے 3 کروڑ ڈالر تک کی سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ ”گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹس“ (جی ایم پی) سرٹیفیکیشن اور دیگر ریگولیٹری منظوریوں کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ جاوید غلام محمد کے مطابق کمپنی جس کی سالانہ فروخت 200 ملین ڈالر سے زائد ہے، آئندہ پانچ سے آٹھ برسوں میں اپنی آمدنی کا نصف حصہ برآمدات سے حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے، جو اس وقت صرف 5 فیصد ہے۔
مارٹن ڈاؤ ابتدائی طور پر ایسے خطوں میں داخلے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جہاں ضابطے نسبتاً نرم ہیں، جیسے کمبوڈیا، میانمار اور مشرقی افریقہ۔ کمپنی کے مطابق، 2027 تک کراچی میں فیکٹریوں کی جدید کاری مکمل ہونے کے بعد، وہ یورپ اور مشرق وسطیٰ جیسی سخت ریگولیٹری منڈیوں میں داخلے کی کوشش کرے گی۔






















Comments
Comments are closed.