پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر بند
- بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں مسلسل نویں سیشن میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (اپی ایس ایکس) نے بدھ کو بھی اپنی ریکارڈ ساز تیز رفتاری کو برقرار رکھا جہاں مضبوط کارپوریٹ نتائج نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا اور بھرپور سرمایہ کاری کو متوجہ کیا جس کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1,57,000 کی سطح سے اوپر بند ہوا۔
کاروباری سیشن کے زیادہ تر حصے میں مثبت رجحان قائم رہا جس کے نتیجے میں انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس بلند ترین سطح 157,479.42 پوائنٹس تک جا پہنچا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 157,020.79 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ 457.27 پوائنٹس یا 0.29 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
کارپوریٹ شعبے کی ایک اہم پیش رفت میں شنگھائی الیکٹرک پاور (ایس ای پی) نے کے الیکٹرک (کے ای) کے 18,335,542,678 حصص کی 1.77 ارب ڈالر مالیت کی خریداری کا معاہدہ ختم کر دیا۔
یاد رہے کہ منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس 476.22 پوائنٹس یا 0.31 فیصد کے اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار 156,563.53 پوائنٹس کی بلند سطح پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس وال اسٹریٹ کے رجحان کے مطابق بلند ہوئیں، جبکہ بانڈز میں کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے اس توقع کو مزید مضبوط کیا کہ امریکی لیبر مارکیٹ کی سست روی فیڈرل ریزرو کو آئندہ ہفتے کم از کم ایک چوتھائی پوائنٹ شرح سود میں کمی پر آمادہ کرے گی۔
مارکیٹوں نے اس عدالتی فیصلے کو بھی تحمل سے لیا جس میں عارضی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک کو برطرف کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ امکان ہے کہ بالآخر امریکی سپریم کورٹ تک پہنچے گا۔
سرمایہ کار اس غیر معمولی قانونی جنگ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس سے مرکزی بینک کی طویل عرصے سے قائم آزادی متاثر ہو سکتی ہے، اگرچہ فوری طور پر مارکیٹ پر اس کا کوئی ردعمل نہیں دیکھا گیا۔
ایشیا میں جاپان کا نِکئی 0.3 فیصد بڑھا، جنوبی کوریا کا کاسپی 1.3 فیصد اوپر گیا جبکہ تائیوان کا ایکویٹی بینچ مارک 1.46 فیصد اضافے کے ساتھ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.5 فیصد بڑھا، جبکہ چین کی مین لینڈ بلیو چپس میں 0.2 فیصد کا اضافہ ہوا۔
رات گئے ایس اینڈ پی 500، نیس ڈیک کمپوزٹ اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج تینوں نئی بلند ترین سطح پر بند ہوئے جبکہ بدھ کو ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں مزید 0.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
ٹریڈرز کے نزدیک فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ بدھ کو شرح سود میں کمی یقینی تصور کی جارہی ہے جبکہ سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق آدھے فیصد کی بڑی کٹوتی کے امکانات بھی 7 فیصد تک لگائے جا رہے ہیں۔
ایک ہفتہ قبل مارکیٹوں نے فیڈ کے شرح سود کو برقرار رکھنے کے امکانات بھی 7 فیصد تک ظاہر کیے تھے تاہم گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی مایوس کن ماہانہ روزگار رپورٹ نے سرمایہ کاروں کو قائل کر دیا کہ معیشت کی مدد کے لیے فیڈ کے پاس مزید انتظار کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ اپنی مثبت پیش رفت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 281.60 پر بند ہوا، جو کہ ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کی بہتری ہے۔ یہ مسلسل 24واں دن تھا جب روپے نے امریکی کرنسی کے مقابلے میں استحکام حاصل کیا۔




















Comments
Comments are closed.