اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گلگت بلتستان اسمبلی کے 11 ارکان کو جماعتی پالیسی کی خلاف ورزی پر پارٹی سے نکال دیا ہے، جن میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے فارورڈ بلاک بنایا اور پارٹی ہدایت کے برخلاف ووٹ دیا۔
یہ فیصلہ اتوار کو سامنے آیا، جو کہ 5 ستمبر کو جاری کیے گئے اخراج کے نوٹسز کے بعد کیا گیا۔ نوٹسز میں کہا گیا کہ ان اراکین نے پی ٹی آئی کی پالیسی کی واضح خلاف ورزی کی ہے اور ان کے اقدامات نے پارٹی کے مفادات اور ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
فارغ کیے جانے والوں میں گلبر خان کی کابینہ کے کئی اراکین بھی شامل ہیں، جن میں عبد الحمید، حاجی شاہ بیگ، مشتاق احمد، سید امجد علی زیدی، شمس الحق لون، دلشاد بانو، راجہ ناصر علی خان مقپون، ثریا زمان، راجہ اعظم خان اماچہ اور راجہ فضل رحیم شامل ہیں۔
نوٹس میں کہا گیا کہ آپ کی برطرفی کی وجہ گلگت بلتستان اسمبلی میں آپ کے اقدامات ہیں، بالخصوص فارورڈ بلاک بنانا اور پارٹی فیصلے کے خلاف ووٹ دینا۔
ساتھ ہی یہ بھی انتباہ دیا گیا کہ مذکورہ اراکین پارٹی کا نام، عہدہ یا وابستگی استعمال نہ کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
علاوہ ازیں، پی ٹی آئی نے سابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیا ہے، جن پر پارٹی کے اندر انحراف کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ انہیں دو روز میں تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، ورنہ مزید تادیبی اقدامات کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ گلبر خان، جو پی ٹی آئی کے سابق رکن ہیں، جولائی 2023 میں وزیراعلیٰ بنے تھے جب اس وقت کے وزیراعلیٰ خالد خورشید کو گلگت بلتستان چیف کورٹ نے جعلی ڈگری جمع کرانے کے الزام میں نااہل قرار دے دیا تھا۔
گلبر خان نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے ساتھ مل کر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت سے مخلوط حکومت بنائی تھی۔
اس وقت پی ٹی آئی نے اس پیش رفت کی مذمت کرتے ہوئے اسے عوامی مینڈیٹ کی دن دہاڑے ڈکیتی قرار دیا تھا۔ بعد ازاں پارٹی نے ان اراکین کو شوکاز نوٹس بھیجے تھے جنہوں نے گلبر خان کے انتخاب کی حمایت کی تھی—اور انہی میں سے کئی کو اب باضابطہ طور پر پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.