پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے ملک میں زندگی بچانے والی ادویات کی غیر معمولی قلت کے حالیہ دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور غیر ضروری خوف پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
پی ایم اے کی جانب سے ایک بڑے اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے جواب میں پی پی ایم اے کا کہنا ہے کہ صورتحال کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔
میڈیا کو جاری اپنے ایک سخت بیان میں چیئرمین پی پی ایم اے توقیر الحق نے کہا کہ ایسی رپورٹس حقائق پر مبنی نہیں اور مریضوں میں بلاوجہ خوف و ہراس پیدا کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال ضروری ادویات کی قیمتوں کے تعین اور غیر ضروری ادویات کی ڈیریگولیشن کا فیصلہ کیا تھا جس سے متاثرہ ادویات کی فراہمی فوری طور پر بحال ہوئی۔ اس اقدام نے نہ صرف مسلسل بلکہ مستحکم سپلائی کو بھی یقینی بنایا اور ضروری و زندگی بچانے والی ادویات تک مریضوں کی رسائی برقرار رکھی۔
انہوں نے کہا کہ بحران کی تصویر پیش کرنے کی کوشش مقامی صنعت کی استعداد کو نظرانداز کرتی ہے۔ یہ درست ہے کہ چند ملٹی نیشنل کمپنیاں تجارتی وجوہات کی بنا پر پاکستان سے نکل گئی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مریض علاج سے محروم ہوگئے ہیں۔ پاکستانی مینوفیکچررز بین الاقوامی معیار کے مطابق قابلِ اعتماد متبادل فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس تاثر دینا گمراہ کن ہے۔
ویکسین کے حوالے سے چیئرمین پی پی ایم اے نے تسلیم کیا کہ یہ شعبہ فوری توجہ کا متقاضی ہے، تاہم یہ کوئی بحران صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی پی ایم اے ڈریپ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر مقامی ویکسین مینوفیکچرنگ کی صلاحیت قائم کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ پائیدار حل فراہم کیے جا سکیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مبالغہ آمیز اور چنیدہ بیانیے، جو ریگولیٹرز اور مقامی صنعت کاروں کے اقدامات کو نظرانداز کرتے ہیں، نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ادویات جیسے انسولین، ہیپرین اور دیگر کارڈیو میٹابولک برانڈز دستیاب ہیں اور ان کے متبادل بھی موجود ہیں۔ انڈسٹری اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ قلت کے بے بنیاد دعوے عوام کے صحت کے نظام پر اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے یہ تاثر بھی رد کر دیا کہ مریضوں کو اہم علاج معالجے کے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایم اے کی جانب سے جن 80 برانڈز کی عدم دستیابی کا دعویٰ کیا گیا ہے ان میں سے صرف 7، مثلاً کلورو-بیوٹانول اور ایماڈاسٹین ڈائی فیوماریٹ وغیرہ مارکیٹ میں دستیاب نہیں، لیکن ان کے مقامی متبادل موجود ہیں۔ اسی طرح چند برانڈز جیسے سوڈیم ایمیڈوٹری زویٹ وقفے وقفے سے دستیاب رہتے ہیں مگر ان کے بھی متبادل مل جاتے ہیں۔ انسولین کے معاملے میں صرف ایک مخصوص کمپنی کا برانڈ موجود نہیں، جبکہ باقی تمام مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ مزید یہ کہ انسولین اور کینسر کی ادویات صرف درجہ حرارت کے مطابق محفوظ رکھی جانے والی فارمیسیوں یا اسپتالوں میں دستیاب ہوتی ہیں، جہاں یہ براہِ راست علاج کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔
چیئرمین پی پی ایم اے نے زور دیا کہ انڈسٹری نے ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے تاکہ مریضوں کو بلا تعطل علاج تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.