کوئٹہ میں شاہوانی اسٹیڈیم کے باہر دھماکا، 11 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی
- حکام کو مزید ہلاکتوں کا خدشہ، صوبائی حکومت نے اعلیٰ سطح تحقیقات کا حکم دے دیا
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شاہوانی اسٹیڈیم کے باہردھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)کے مطابق دھماکا پارٹی سربراہ سردار اختر مینگل کی گاڑی کے قریب اس وقت ہوا جب وہ ریلی سے واپس جارہےتھے، آج نیوز کے مطابق سردار اختر مینگل محفوظ رہے۔
آج نیوز، اے ایف پی اور دیگر میڈیا سورسز کے مطابق یہ ایک خودکش دھماکا تھا تاہم اس رپورٹ کے فائل ہونے تک کسی سرکاری ذرائع نے دھماکے کی نوعیت کی تصدیق نہیں کی۔
پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوراً موقع پر پہنچیں، علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمیوں کو سول اسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔پولیس کے مطابق دھماکے میں چار گاڑیاں شدید طور پر متاثر ہوئیں۔
بلوچستان ہوم ڈپارٹمنٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے اعلیٰ سطح تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہیں پھیلانے سے اجتناب کریں اور تفتیشی حکام کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی حملے کی مذمت
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے شاہوانی اسٹیڈیم دھماکے کی شدید مذمت کی، ان کا کہنا تھا کہ دھماکا انسانیت کے دشمنوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔
انہوں نے اسپتالوں کو ہدایت دی ہے کہ زخمیوں کو بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جائے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔دہشت گردوں کو صوبے کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا، تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔






















Comments
Comments are closed.