فیصل بینک لمیٹڈ (ایف بی ایل) نے سال 2025 کی پہلی ششماہی میں اپنے کاروباری رجحان کو برقرار رکھتے ہوئے اہم شعبوں میں مارکیٹ شیئر میں اضافہ جاری رکھا اور ریٹیل و کارپوریٹ دونوں طرح کے صارفین کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔
بینک کے مجموعی ڈپازٹس 1.2 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جو دسمبر 2024 کے مقابلے میں 19 فیصد اضافہ ہے جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ ڈپازٹس 532 ارب روپے تک پہنچ کر نصف ٹریلین کا سنگ میل عبور کرگیا (30 فیصد اضافہ) جس سے شرح سود میں کمی کے باوجود بنیادی آمدن کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
بینک نے مالیاتی تناسب میں بھی مضبوط کارکردگی دکھائی جس میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ (اے ڈی آر) تناسب 57.8 فیصد رہا جو ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کیپٹل ایڈیکوئنسی ریشو (سی اے آر) 15.6 فیصد پر برقرار رہا جو ریگولیٹری تقاضوں سے کافی زیادہ ہے جب کہ اثاثوں کے معیار میں بھی بہتری آئی اور نان پرفارمنگ لون (این پی ایل) تناسب دسمبر 2024 کے 3.6 فیصد کے مقابلے میں 3.0 فیصد تک کم ہوا۔
نتیجتاً قبل از ٹیکس منافع 21.9 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جبکہ چھ ماہ کے لیے فی شیئر آمدنی 6.59 روپے رہی۔
حصص داروں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے بینک نے فی شیئر 1.5 روپے کا عبوری نقد ڈیوڈنڈ جاری کیا جو 15 فیصد کے ادا کردہ تناسب کی عکاسی کرتا ہے۔
فیصل بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین میاں محمد یونس نے کہا کہ 2025 کی پہلی ششماہی کے نتائج ہمارے اسلامی بینکاری کے مضبوط اور مستحکم بنیاد کی پائیداری کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ کامیابی ہمارے بورڈ کے واضح اسٹریٹجک وژن اور انتظامیہ کی لگن کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
صدر و سی ای او یوسف حسین نے کہاکہ فیصل بینک میں ہم اسلامی مالیات کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے جدید اور جامع مالی حل فراہم کرتے ہیں جو حقیقی معیشت میں حصہ ڈالیں۔ شریعت نگرانی بورڈ کی رہنمائی میں ہم رسک مینجمنٹ، گورننس فریم ورک اور صارف مرکوز نقطۂ نظر کو مضبوط کرتے رہتے ہیں تاکہ پائیدار اور ذمہ دارانہ ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ کارکردگی بینک کی مضبوط مالی صحت، شفافیت اور صارفین کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے جبکہ مارکیٹ میں اس کی موجودگی کو مزید مستحکم کرتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025
























Comments
Comments are closed.