BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ پانچ برسوں کے لیے جامع ٹیکسٹائل و اپیرل پالیسی اور قومی صنعتی پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے، جن کا مقصد ملکی صنعت کو خطے میں مسابقتی بنانا، تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنا اور برآمدات میں پائیدار اضافہ یقینی بنانا ہے ۔

جام کمال خان نے یہ بات وزارتِ تجارت میں ایک اجلاس کی صدارت کے دوران کہی جس میں کوہِ نور ملز کے سی ای او عامر فیاض شیخ، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد، فضل کلاتھ کے سی ای او رحمان نسیم اور اپٹما کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہد ستار شریک تھے جبکہ وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان بھی موجود تھے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ تجارت نے کہا کہ ٹیکسٹائل و اپیرل پالیسی اس انداز میں تیار کی جارہی ہے کہ پیداواری لاگت کم ہو، وسائل کے استعمال اور عمل کاری میں بہتری آئے، تحقیق و ترقی اور مصنوعات و منڈیوں کی تنوع کو فروغ ملے اور پاکستان کا عالمی مارکیٹ میں حصہ بڑھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو برآمدات میں اضافے پر انحصار کرنا ہوگا اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام پالیسی فیصلے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیے جائیں۔ جام کمال خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اور صنعت برآمدات کے فروغ کی رفتار کو بحال کرنے اور مزید تیز کرنے کے معاملے میں ہم آہنگ ہیں۔

علاقائی حریف ممالک کی پالیسیوں کے تجزیے کی صنعت کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیرِ تجارت نے اپنے حالیہ دورۂ ڈھاکہ کا حوالہ دیا، جہاں انہوں نے تیار ملبوسات کی برآمدات اور صنعتی ترقی میں بنگلہ دیش کی کامیابی کو قریب سے دیکھا۔

اس موقع پر ہارون اختر خان نے کہا کہ نئی صنعتی پالیسی صرف چند مخصوص شعبوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ توانائی، ٹیرف اور ٹیکسیشن، فنانسنگ، اقتصادی زونز سمیت دیگر تمام پہلوؤں کا جامع احاطہ کرے گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ پالیسی توانائی، ٹیرف اور ٹیکسیشن، فنانسنگ، اقتصادی زونز اور دیگر شعبوں سمیت تمام پہلوؤں کا جامع احاطہ کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرین فیلڈ منصوبوں کے لیے سہولت کاری، عوامی و نجی شراکت داری کے تحت زمین کے لیز ماڈل اور سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو سسٹم بھی پالیسی کا حصہ ہوں گے۔

یہ اقدام ملک بھر میں صنعتی ترقی میں نئی جان ڈال دے گا۔

اجلاس میں اپٹما وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈھانچہ جاتی خامیوں کو دور کرے اور ایسا سازگار ماحول فراہم کرے جو عالمی مارکیٹ میں برآمدی شعبوں کی مسابقت کو متاثر کر رہا ہے۔

Comments

Comments are closed.