درآمدی گاڑیوں کی پالیسی، موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کا وزارت تجارت سے پالیسی سازی میں شامل کرنے کا مطالبہ
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی ایم ڈی اے) نے وزارتِ تجارت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں پرانی گاڑیوں کی درآمدی پالیسی سازی کے عمل میں شامل کیا جائے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے موجودہ اسکیموں کو ہر صورت جاری رکھا جائے۔
ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیرِ تجارت کو بھیجے گئے ایک خط میں انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کی جانب سے وزارتِ صنعت کے ذریعے مجوزہ موٹر وہیکل ڈویلپمنٹ ایکٹ 2025 پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف جائز اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کے منافی ہیں بلکہ پاکستانی صارفین اور سمندر پار پاکستانیوں کو بھی نقصان پہنچائیں گے جو ہر سال قومی معیشت میں اربوں ڈالر کا حصہ ڈالتے ہیں۔
اے پی ایم ڈی اے نے واضح کیا کہ ٹرانسفر آف ریزیڈنس، گفٹ اور بگیج اسکیمیں بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان اسکیموں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا خاتمہ اُن کے بنیادی حقوق کی نفی اور ملک کے لیے شدید مالی نقصان کا باعث ہوگا۔
ایسوسی ایشن نے اس بات پر زور دیا کہ ای ڈی بی محض ایک تکنیکی ادارہ ہے جس کا دائرہ کار مقامی پرزہ جات کی تیاری اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ تک محدود ہے، جبکہ تجارتی درآمدی پالیسی پر عملدرآمد وزارتِ تجارت کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے ای ڈی بی کی مداخلت اپنے قانونی مینڈیٹ سے تجاوز کے مترادف ہوگی۔
خط میں مزید کہا گیا کہ مقامی آٹو اسمبلرز نے اپنی تنصیبات کے قیام کے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ دس برس میں 100 فیصد مقامی پرزہ جات تیار کرکے مکمل مقامی گاڑیاں بنائیں گے، لیکن 35 برس گزرنے کے باوجود یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ ای ڈی بی بھی ڈیلیشن پروگرام نافذ کرنے میں ناکام رہا، جس کے تحت اسمبلرز کو بتدریج درآمدی پرزہ جات کی جگہ مقامی پرزہ جات استعمال کرنے تھے۔
اس غفلت کے نتیجے میں صارفین کو اب بھی ادھوری اور مہنگی گاڑیاں فراہم کی جارہی ہیں جبکہ سستی اور معیاری چینی گاڑیاں مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔ مقامی اسمبلرز اپنی ہی وعدہ خلافیوں کے باعث عالمی مسابقت میں پیچھے رہ گئے ہیں۔
اے پی ایم ڈی اے نے خبردار کیا کہ اگر اصل اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت کے آخری مراحل میں شامل نہ کیا گیا تو یہ معاملہ صرف کاروباری مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ عوامی مفاد کا مسئلہ بن جائے گا۔ اس صورت میں ایسوسی ایشن عدالتِ عالیہ سے رجوع کرنے پر مجبور ہوگی تاکہ صارفین اور متعلقہ حلقوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.