ملک کے سب سے زیادہ بدعنوان اداروں میں سے ایک میں اصلاحات لانے کے لیے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کسٹمز انسپیکشن اور قیمتوں کے تعین (ویلیوایشن) کے نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور فیس لیس بنایا جائے گا تاکہ رشوت ستانی کا خاتمہ، دفتری رکاوٹوں میں کمی اور تجارتی بہاؤ میں بہتری ممکن ہو سکے۔
یہ اعلان کسٹمز کی فیس لیس جانچ پڑتال سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا اور یہ وزیرِاعظم کی حکومت کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ اہم ساختی اہداف حاصل کرنا ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ہدف شفافیت کو یقینی بنانا، تاخیر کم کرنا اور کاروبار دوست ماحول پیدا کرنا ہے، یہ اصلاحات نمائشی نہیں بلکہ معاشی بحالی اور عالمی ساکھ کے لیے ناگزیر ہیں۔
اصلاحات کے تحت کسٹمز کے تمام طریقۂ کار کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے گا تاکہ جانچ پڑتال اور قیمتوں کے تعین میں انسانی صوابدید کا خاتمہ ہو، وہی عمل جسے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان طویل عرصے سے غیر شفاف اور زبردستی رشوت طلب کرنے والا قرار دیتے آئے ہیں۔
آفیشلز نے وزیرِاعظم کو آگاہ کیا کہ کسٹمز کلیئرنس کو تیز بنانے کے لیے اے آئی سے چلنے والے رسک مینجمنٹ سسٹمز اور اسکینر پر مبنی چیکنگ پہلے ہی متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
یہ اقدامات سرحدی تجارت میں برسوں سے جاری کرپشن کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں جہاں فزیکل معائنوں اور من مانی ٹیکس تشخیصات نے سرکاری اہلکاروں کو ناجائز مالی فوائد حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.