وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کے روز اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کی صلاحیت کو بروئے کار لانا طویل المدتی اور پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے، ساتھ ہی حکومت کے سرکلر ڈیٹ پر قابو پانے اور بین الاقوامی قرض دہندگان کے ساتھ روابط کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
ایس ای سی پی (سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان) اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے زیر اہتمام ”بینکوں کے لیے کیپٹل مارکیٹ کی صلاحیت کو اجاگر کرنا“ کے عنوان سے منعقدہ مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے قیام کی تجویز دی تاکہ کیپٹل سے متعلق امور کو مربوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ ورکنگ کیپٹل کو صرف بینکوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے کیپٹل مارکیٹ کے ذریعے وسعت دی جانی چاہیے تاکہ وسیع تر میکرو اکنامک استحکام میں مدد مل سکے۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ مالی سال 2026 سے ٹیکس پالیسی کی تشکیل ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کے بجائے وزارت خزانہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی اپنی ٹیرف پالیسی کا اعلان کر چکی ہے اور ٹیرف سے متعلق اصلاحات ہمارے گھریلو ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف کیسے بڑھتے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری اصلاحات کو سراہا اور اقتصادی ترقی میں نجی شعبے کے مرکزی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان درست سمت میں گامزن ہے اور اپنے وژن کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگر ملک موسمیاتی تبدیلی اور تیزی سے بڑھتی آبادی جیسے بڑے مسائل پر قابو پا لے تو 2047 تک ایک ترقی یافتہ معیشت بن سکتا ہے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے اینٹی منی لانڈرنگ قوانین گولڈ اسٹینڈرڈ ضابطے ہیں جنہوں نے ملک کو فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہی قوانین یقینی بنائیں گے کہ ہم دوبارہ گرے لسٹ میں شامل نہ ہوں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ آئی ایم ایف کا ایک وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا جو 37 ماہ کے پروگرام کے تحت باقاعدہ مشاورت کا حصہ ہے۔
مالیاتی پالیسی کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ شرح سود کے فیصلوں میں حکومت کا کوئی کردار نہیں اور یہ مکمل طور پر اسٹیٹ بینک کا اختیار ہے، جب کہ شرح مبادلہ مارکیٹ کے تعین کے مطابق ہی رہے گی۔
وزیر خزانہ نے توانائی کے شعبے پر بھی اپ ڈیٹ دی، کہا کہ بجلی کے شعبے کا سرکلر ڈیٹ بتدریج کم ہو رہا ہے، تین تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے نشاندہی کی گئی ہے اور گیس کے شعبے کے بقایاجات کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ شدید بارشوں کے اثرات پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ فی الحال سب سے بڑی ترجیح متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی اور ریلیف ہے، جب کہ مالی نقصانات کا تخمینہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔
اس اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرپرسن پاکستان اسٹاک ایکسچینج ڈاکٹر شمشاد اختر، چیئرمین ایس ای سی پی عاکف سعید، سابق ایس ای سی پی سربراہ فاروق سبزواری، پی ایس ایکس کے سی ای او، اور بڑے بینکوں و مالیاتی اداروں کے صدور و سی ای اوز نے بھی شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.