پاکستان ایلومینیم بیوریج کینز لمیٹڈ (پی اے بی سی) نے اپنی ڈی بوٹلنیکنگ اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کا منصوبہ کامیابی سے مکمل کرلیا ہے جس کے نتیجے میں کمپنی کی سالانہ پیداواری گنجائش میں 8 فیصد سے زائد نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کمپنی نے بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 30 اپریل 2025 کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے ڈی بوٹلنیکنگ اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کی منظوری کے بعد ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ یہ منصوبہ مقررہ مدت کے اندر کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔
پی اے بی سی کے مطابق منصوبے کا مقصد پیداوار میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا، پیداواری لائنوں کی استعداد کار کو متوازن بنانا اور مجموعی آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا تھا۔
کمپنی نے مزید بتایا کہ ہم یہ اطلاع دیتے ہوئے خوش ہیں کہ یہ تمام اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے گئے ہیں، اب کمپنی کی سالانہ پیداواری صلاحیت 1,200 ملین کینز سے بڑھ کر 1,300 ملین کینز ہوگئی ہے اور یہ اضافی صلاحیت تجارتی طور پر فعال ہوچکی ہے اور مکمل طور پر دستیاب ہے۔
پی اے بی سی جو ایلومینیم کینز کی تیاری اور فروخت کے شعبے میں سرگرم ہے کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اس کی طویل المدتی حکمتِ عملی اور پیداواری صلاحیت کے فروغ کے اہداف کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے وقت پی اے بی سی کا شیئر 4 روپے 62 پیسے یا 2.88 فیصد اضافے کے ساتھ 165 روپے میں ٹریڈ ہو رہا تھا۔
یاد رہے کہ 2022 میں کمپنی نے 94 ملین شیئرز کی پیشکش کے ذریعے 49 روپے فی شیئر کی قیمت پر 4.6 ارب روپے اکٹھے کیے تھے جو کہ 35 روپے فی شیئر کی مقررہ کم از کم قیمت سے 40 فیصد زائد تھے۔ کمپنی کا ابتدائی ہدف 3.3 ارب روپے جمع کرنا تھا۔






















Comments
Comments are closed.