وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے طویل عرصے سے منتظر فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کو دو اہم معاملات کے حل سے مشروط کردیا ہے جن میں پی ٹی سی ایل کی جانب سے ٹیلی نار کا حصول اور جاری اسپیکٹرم سے متعلق عدالتی مقدمات شامل ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت رواں سال کے اختتام تک فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا ارادہ رکھتی ہے بشرطیکہ زیر التوا معاملات حل ہوجائیں۔ وہ اس تقریب سے خطاب کررہی تھیں جہاں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے اشتراک سے سائنس، ٹیکنالوجی، انجنئیرنگ اور میتھ پر مبنی نیا تعلیمی فیڈ اسٹیم سسٹم متعارف کر وا دیا ہے جو معیاری تعلیمی مواد کو زیادہ قابلِ رسائی اور دلچسپ بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان اس وقت 274 میگاہرٹز اسپیکٹرم پر کام کر رہا ہے جبکہ آئندہ نیلامی میں اس سے دوگنا استعداد کا اسپیکٹرم پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
شزہ فاطمہ نے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے جاری کوششوں پر بھی روشنی ڈالی جن میں فائبر آپٹک کا پھیلاؤ، سیٹلائٹ انٹرنیٹ، اور اسمارٹ فونز کی affordability شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسمارٹ فونز کو آسان اقساط پر فراہم کرنے کے لیے نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔
ہم ڈیجیٹل پاکستان ایکٹ کے تحت ایک جامع ڈیجیٹل شناختی نظام پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انٹرنیٹ تک رسائی میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈیجیٹل نظام کے بہتر انضمام کے باعث مہنگائی اور پالیسی ریٹس میں کمی آئی ہے۔
وفاقی وزیرنے انکشاف کیا کہ گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس میں 96 فیصد فری لانسرز نے 70 کروڑ ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 12 لاکھ لیپ ٹاپ میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کیے جاچکے ہیں جبکہ مزید ایک لاکھ لیپ ٹاپ جلد فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ملک کی اے آئی پالیسی کے تحت 10 لاکھ بچوں کو تربیت دی جائے گی جب کہ گزشتہ سال کے دوران 1 لاکھ افراد کو ڈیجی اسکلز کے ذریعے تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت پاکستان کو 7 سب میرین کیبلز سے منسلک کیا جا چکا ہے جبکہ مزید تین کیبلز رواں سال متوقع ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی سب میرین کیبل بھی 2025 کے اختتام تک پاکستان سے منسلک ہو جائے گی۔
شزہ فاطمہ نے کہا کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم نئی چیزیں کیسے سیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو مثبت اور اخلاقی انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت-پاکستان جنگ میں ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا۔
نئی اسٹیم فیڈ ٹک ٹاک پر ایک مخصوص اِن ایپ تجربہ ہے، جہاں صارفین سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور ریاضی سے متعلق معیاری اور منتخب کردہ مواد کی اسٹریم کو دریافت کرسکتے ہیں۔ اس کا مقصد طلبہ، اساتذہ اور نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے تجسس کو ابھارنا، تنقیدی سوچ کو فروغ دینا اور ڈیجیٹل سیکھنے کے مواقع کو وسعت دینا ہے۔






















Comments
Comments are closed.