ساتواں این ایف سی ایوارڈ، وفاق کی جانب سے بغیر آڈیٹر جنرل کی تصدیق کے 87.87 ارب روپے سالانہ کٹوتی کا انکشاف
آڈٹ رپورٹ 25-2024 کے مطابق، ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے نفاذ کو 15 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن وفاقی حکومت اب بھی سالانہ 87.871 ارب روپے کی رقم بطور کلیکشن چارجز محض ”تخمینی بنیاد“ پر منہا کر رہی ہے، بغیر اس کے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) سے قانونی طور پر درکار تصدیق حاصل کی گئی ہو۔
“آڈٹ رپورٹ برائے اکاؤنٹس آف فیڈرل گورنمنٹ (سول)، آڈٹ ایئر 25-2024 میں 2010 کے ”ریونیو اور گرانٹس ان ایڈ کی تقسیم کے آرڈر“ کی شق 2(a) کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق ”خالص آمدنی“ سے مراد کسی بھی ٹیکس، ڈیوٹی یا لیوی کی وہ آمدن ہے جس میں سے کلیکشن پر اٹھنے والی لاگت منہا کی جائے، اور یہ لاگت اے جی پی کی تصدیق سے معلوم اور مقرر کی گئی ہو۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ نے 24-2023 کے دوران صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 4.928 ٹریلین روپے تقسیم کیے، اور اس میں سے 87.871 ارب روپے بطور ایک فیصد کلیکشن چارجز منہا کیے گئے۔
وزارت خزانہ نے یہ رقم قومی بنیاد پر تخمینی طور پر منہا کی، حالانکہ ان کے پاس اصل کلیکشن چارجز کا حساب موجود نہیں تھا، جو کہ شق 2(a) کے خلاف ہے۔ آڈٹ کو اے جی پی کی جانب سے کلیکشن چارجز کے تعین اور تصدیق کا کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا اعتراف ہے کہ 2010 میں ساتواں این ایف سی ایوارڈ نافذ ہونے کے بعد سے یہ مسئلہ حل طلب ہے۔ ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ “15 سال گزر گئے لیکن وزارت خزانہ ابھی تک اے جی پی سے کلیکشن چارجز کی تصدیق حاصل نہیں کر سکی، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) بھی اس پر کوئی مؤثر کارروائی نہ کر سکی۔
وزارت خزانہ کا جواب تھا کہ کلیکشن چارجز ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی سفارشات کے تحت قابل تقسیم محاصل کا ایک فیصد منہا کیے گئے، اور وفاقی حکومت کے اکاؤنٹس کی تصدیق کے لیے انہیں اے جی پی کو پیش کیا جاتا ہے۔ اے جی پی جب ان کلیکشن چارجز کی تصدیق کرے گا تو اس کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کر دی جائے گی۔ مزید کہا گیا کہ 24-2023 کی این ایف سی منتقلیاں صوبائی فنانس ڈیپارٹمنٹس، اے جی پی آر اور اے جی آفسز کے ساتھ مفاہمت سے طے پا چکی ہیں، اور صوبائی حکومتوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
تاہم، آڈٹ نے وزارت خزانہ کے جواب کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ کلیکشن چارجز کی کٹوتی صرف اے جی پی کے تعین اور تصدیق کے بعد ہونی چاہیے تھی، اور پھر صوبوں کو رقوم منتقل کی جاتیں، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
آڈٹ کے مطابق، اصل کلیکشن چارجز کی عدم کٹوتی ایک غیر قانونی عمل ہے، اور 2010 کے آرڈر کے تحت اے جی پی سے اس کی تصدیق حاصل کرنا لازمی ہے۔ مزید برآں، یہ کٹوتی بغیر کسی تصدیق شدہ حساب یا اے جی پی کی منظوری کے کی گئی، جو کہ آڈٹ کے مطابق بے قاعدگی ہے۔ اگرچہ ماضی کی آڈٹ رپورٹس میں بھی اس نکتے پر بارہا نشاندہی کی گئی، لیکن یہ بنیادی تقاضا اب تک پورا نہیں کیا گیا۔
13 جنوری 2025 کو ہونے والے ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) کے اجلاس میں وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس معاملے پر اے جی پی سے رجوع کرے۔
آڈٹ نے سفارش کی کہ ”ریونیو اور گرانٹس ان ایڈ کی تقسیم کے آرڈر 2010“ کے تحت اے جی پی سے کلیکشن چارجز کے تعین و تصدیق کی لازمی شرط پوری کی جائے، اور کلیکشن چارجز کا مکمل ریکارڈ آڈٹ کے لیے فراہم کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.