پاکستان سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (ایس ایم اے پی) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ 30 جولائی کو ہونے والے آئندہ پالیسی اجلاس میں شرحِ سود میں 3 سے 4 فیصد تک نمایاں کمی کی جائے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں چیئرپرسن صائمہ اختر کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں میں حقیقی بہتری لانے اور سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے شرحِ سود میں کم از کم 3 فیصد کمی ناگزیر ہے۔
ایس ایم اے پی کے بانی چیئرمین اسماعیل ستار نے کہا کہ بلند شرحِ سود صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (ایس ایم ایز) شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی سے کاروبار کو درکار ورکنگ کیپیٹل میں بہتری آئے گی اور ان کی پیداواری صلاحیت کو نئی جِلا ملے گی۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سستی اور باآسانی دستیاب مالی سہولیات سے ملک کی نمک پروسیسنگ سمیت دیگر مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کو تکنیکی اپ گریڈیشن، پیداواری دائرہ کار بڑھانے اور برآمدی مسابقت میں بہتری لانے کا موقع ملے گا۔
اسماعیل ستار کا مزید کہنا تھا کہ جب کاروبار پھلتے پھولتے ہیں تو وہ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں بلکہ ٹیکس آمدن اور جی ڈی پی میں بھی اضافہ کرتے ہیں، جو مالی خسارے کم کرنے اور روپے کو مستحکم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 16 جون کو ہونے والے گزشتہ ایم پی سی اجلاس میں شرحِ سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ 30 جولائی کو ہونے والی آئندہ پالیسی میٹنگ—جو مالی سال 2025-26 کی پہلی میٹنگ ہوگی—میں مرکزی بینک کی جانب سے شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس (0.5 فیصد) کمی کیے جانے کا امکان ہے۔






















Comments
Comments are closed.