BR100 Decreased By (-0.58%)
BR30 Decreased By (-1.08%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.46%)
BAFL 56.92 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
BIPL 24.97 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 30.13 Decreased By ▼ -0.22 (-0.72%)
CNERGY 12.99 Decreased By ▼ -0.13 (-0.99%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.00 Decreased By ▼ -4.45 (-2.31%)
FABL 94.25 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 52.29 Decreased By ▼ -0.50 (-0.95%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.55 (-2.81%)
HBL 305.80 Decreased By ▼ -0.30 (-0.1%)
HUBC 200.40 Decreased By ▼ -1.02 (-0.51%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.30 Decreased By ▼ -0.16 (-0.6%)
MLCF 91.57 Decreased By ▼ -1.59 (-1.71%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.69 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
PIOC 240.10 Decreased By ▼ -3.11 (-1.28%)
PPL 222.60 Decreased By ▼ -4.31 (-1.9%)
PRL 91.35 Decreased By ▼ -1.67 (-1.8%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.29 Decreased By ▼ -0.52 (-2.18%)
TELE 7.58 Decreased By ▼ -0.22 (-2.82%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 56.60 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

پاکستان سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (ایس ایم اے پی) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ 30 جولائی کو ہونے والے آئندہ پالیسی اجلاس میں شرحِ سود میں 3 سے 4 فیصد تک نمایاں کمی کی جائے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں چیئرپرسن صائمہ اختر کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں میں حقیقی بہتری لانے اور سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے شرحِ سود میں کم از کم 3 فیصد کمی ناگزیر ہے۔

ایس ایم اے پی کے بانی چیئرمین اسماعیل ستار نے کہا کہ بلند شرحِ سود صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (ایس ایم ایز) شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں کمی سے کاروبار کو درکار ورکنگ کیپیٹل میں بہتری آئے گی اور ان کی پیداواری صلاحیت کو نئی جِلا ملے گی۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سستی اور باآسانی دستیاب مالی سہولیات سے ملک کی نمک پروسیسنگ سمیت دیگر مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کو تکنیکی اپ گریڈیشن، پیداواری دائرہ کار بڑھانے اور برآمدی مسابقت میں بہتری لانے کا موقع ملے گا۔

اسماعیل ستار کا مزید کہنا تھا کہ جب کاروبار پھلتے پھولتے ہیں تو وہ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں بلکہ ٹیکس آمدن اور جی ڈی پی میں بھی اضافہ کرتے ہیں، جو مالی خسارے کم کرنے اور روپے کو مستحکم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 16 جون کو ہونے والے گزشتہ ایم پی سی اجلاس میں شرحِ سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ 30 جولائی کو ہونے والی آئندہ پالیسی میٹنگ—جو مالی سال 2025-26 کی پہلی میٹنگ ہوگی—میں مرکزی بینک کی جانب سے شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس (0.5 فیصد) کمی کیے جانے کا امکان ہے۔

Comments

Comments are closed.