بالائی علاقوں میں مزید موسلادھار بارشوں کا انتباہ، پنجاب میں رین ایمرجنسی نافذ
- گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث پیش آنےنجاوالے مختلف حادثات میں 33 افراد جاں بحق ،170 سے زائد زخمی
محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) نے جمعرات کو کہا ہے کہ آئندہ 12 گھنٹوں کے دوران کشمیر، اسلام آباد، پوٹھوہار ریجن، شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث طوفانی بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ وسطی اور جنوبی پنجاب کے علاوہ شمال مشرقی اور جنوبی بلوچستان میں بھی چند ایک مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارشیں متوقع ہیں۔
ادھر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب بھر میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث پیش آنےنجاوالے مختلف حادثات میں کم از کم 33 افراد جاں بحق جبکہ 170 سے زائد زخمی ہو گئے، جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں لاہور شامل ہے جہاں 13 افراد جاں بحق ہوئے، فیصل آباد میں 8، پاکپتن میں 4 جبکہ شیخوپورہ اور اوکاڑہ میں تین تین اور ننکانہ صاحب اور ساہیوال میں ایک ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
ریسکیو ٹیموں نے غیر مستحکم حالات کے باوجود کارروائیاں جاری رکھیں اور عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے منگل کو اپنی تازہ ترین یومیہ رپورٹ میں بتایا کہ 26 جون سے اب تک پاکستان بھر میں موسلا دھار مون سون بارشوں اور اچانک سیلاب کے نتیجے میں تقریباً 116 افراد جاں بحق اور 253 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہی بارش سے متعلقہ حادثات میں مزید پانچ ہلاکتیں اور 41 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
پنجاب اب تک سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا ہے جہاں اب تک 44 ہلاکتیں اور 149 افراد کے زخمی ہونے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
پنجاب میں بارش ایمرجنسی نافذ
وزیراعلیٰ پنجاب کے پی آر او نے جمعرات کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر کے مختلف علاقوں، بشمول راولپنڈی، میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے کیونکہ صوبہ شدید بارشوں، سیلاب اور شہری علاقوں میں پانی بھر جانے کی صورتحال سے نبرد آزما ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر، تمام متعلقہ محکمے، بشمول ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے، صوبے بھر میں شہریوں کو سیلاب جیسی صورتحال سے بچانے کے لیے متحرک کر دیے گئے ہیں۔
پی آر او کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں عوام کو کشتیوں کے ذریعے مدد فراہم کی جارہی ہے۔ پولیس کو گشت بڑھانے اور ضلعی انتظامیہ و دیگر امدادی اداروں کی معاونت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تالابوں، نہروں، نالوں اور برساتی ندی نالوں کے قریب نہ جائیں اور بارش کے پانی میں نہانے سے گریز کریں۔ ٹریفک پولیس کو گاڑیوں کی روانی کے لیے متبادل انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔






















Comments
Comments are closed.