امریکی وفاقی جج جوزف لاپلانٹے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد کو ایک بار پھر ملک بھر میں روک دیا ہے، جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے بعض بچوں کو شہریت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ حکم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ججوں کے ملک گیر پابندیوں کے اختیارات کو محدود کر دیا ہے۔
لاپلانٹے نے تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے وکلا کی درخواست پر مقدمے کو اجتماعی مقدمے (class action lawsuit) کی حیثیت دینے کی اجازت دی، جس کے بعد وہ اس پالیسی کے خلاف پورے ملک میں نیا عدالتی حکم جاری کرنے کے مجاز ہو گئے۔
جج نے کہا کہ اس کیس میں حکم امتناعی جاری کرنا مشکل فیصلہ نہیں تھا کیونکہ اگر ٹرمپ کا حکم لاگو ہو جاتا تو کئی بچوں کو امریکی شہریت سے محروم کیا جا سکتا تھا، جسے انہوں نے ”ناقابل تلافی نقصان“ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”شہریت دنیا میں سب سے بڑی نعمت ہے“۔
جج نے اپنے فیصلے پر 7 دن کی اسٹے دے دی تاکہ حکومت اپیل کر سکے، اور کہا کہ وہ دن کے اختتام تک تحریری فیصلہ جاری کریں گے۔ ٹرمپ کا حکم 27 جولائی سے نافذ ہونا تھا جس کے خلاف اے سی ایل یو اور دیگر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہی اجتماعی مقدمہ دائر کیا۔
ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر اس وقت سامنے آیا جب وہ جنوری میں دوبارہ اقتدار میں آئے۔ اس حکم کے مطابق ایسے بچوں کو شہریت نہ دی جائے جن کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا گرین کارڈ ہولڈر نہ ہو۔ اگر یہ حکم نافذ ہو جاتا تو ہر سال 1,50,000 سے زائد نومولود بچے شہریت سے محروم ہو سکتے تھے۔
جج لاپلانٹے نے قرار دیا کہ ٹرمپ کا حکم 14ویں آئینی ترمیم اور 1898 کے ایک سپریم کورٹ فیصلے سے متصادم ہے۔























Comments
Comments are closed.