کوہالہ منصوبے کو نکالنے پر چینی کمپنی کا آئی جی سی ای پی 35-2025 مسودے پر شدید تحفظات کا اظہار
چینی کمپنی کوہالہ ہائیڈروپاور کمپنی لمیٹڈ (کے ایچ سی ایل) نے مجوزہ آئندہ انٹیگریٹڈ جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 35-2025 میں کی گئی حالیہ ترامیم پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے، جن کے باعث کمیٹیڈ پراجیکٹ کے معیار کو ماضی کی تاریخ سے مؤثر کرتے ہوئے تبدیل کیا گیا ہے، اور اس تبدیلی کے تحت 1,124 میگاواٹ کے کوہالہ منصوبے کو غیرمنصفانہ طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لیو یونگ گانگ نے پاور ڈویژن کو ایک خط میں لیٹر آف سپورٹ (ایل او ایس) کی توسیع کے لیے فوری طور پر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی درخواست کو دہرایا ہے، جیسا کہ 18 ستمبر 2024 کو ہونے والے پی پی آئی بی بورڈ کے 144ویں اجلاس میں منظور کیا گیا تھا۔
سی ای او کے مطابق، کمپنی نے تمام تقاضے پورے کیے ہیں، جن میں 5.62 ملین ڈالر کی پرفارمنس گارنٹی جمع کرانا بھی شامل ہے۔ کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو مسلسل آئی جی سی ای پی 30-2021 اور 31-2022 میں کمیٹیڈ پراجیکٹ کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا، جیسا کہ 13 ستمبر 2021 کے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے فیصلے میں درج ہے۔ یہ حیثیت نیشنل الیکٹریسٹی پلان 27-2023 میں بھی برقرار رکھی گئی ہے، جس کے کلاز 5( سی) میں واضح طور پر درج ہے کہ آئی جی سی ای پی2021 میں کمیٹیڈ قرار دیے گئے تمام منصوبے اسی حیثیت میں جاری رہیں گے۔
تاہم، کمپنی کو مجوزہ آئی جی سی ای پی 35-2025 میں کی گئی ترامیم پر مایوسی ہے، کیونکہ ان ترامیم کے تحت کمیٹیڈ پراجیکٹ کے معیار کو ماضی کی بنیاد پر تبدیل کیا گیا ہے، اور کوہالہ منصوبے کو غیرمنصفانہ طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ لیو یونگ گانگ نے کہا کہ یہ تبدیلی نہ صرف قانونی حقوق اور معاہداتی ذمہ داریوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ایسے نئے معیارات کو ماضی سے مؤثر بنا کر لاگو کرتی ہے جو اس منصوبے کی منظوری اور ترقی کے وقت موجود ہی نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایک منصوبے کو کمیٹیڈ تسلیم کر لیا جائے تو اسے آئندہ آئی جی سی ای پی کے ذریعے دوبارہ جانچنے کا کوئی جواز نہیں ہوتا، اور اگر نئے معیار لاگو کرنے ہیں تو وہ صرف اُن منصوبوں پر لاگو ہوں جو نئے ہوں یا کمیٹیڈ نہ ہوں یا ترک کر دیے گئے ہوں۔ یہاں تک کہ کمیٹیڈ منصوبوں میں تاخیر بھی انہیں خارج کرنے کا جواز نہیں بنتی بلکہ ان کے تجارتی آغاز کی تاریخوں میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
سی ای او نے مزید کہا کہ بغیر کسی مشاورت یا منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیے بغیر این ٹی ڈی سی نے کوہالہ منصوبے کو غیرمنطقی اور غیرقانونی طور پر خارج کر دیا۔
کمپنی کے مطابق، جب ایک منصوبہ کمیٹیڈ قرار پا جائے تو لیسٹ کاسٹ معیار کو اس کی ترقیاتی کارروائیوں میں ماضی سے مؤثر طریقے سے لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود کوہالہ منصوبے کو آئی جی سی ای پی 35-2025 کے مسودے میں لیسٹ کاسٹ بنیاد پر جانچا گیا، جو کہ آئینی، قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے منافی ہے۔
کمپنی نے دعویٰ کیا کہ کوہالہ پراجیکٹ نے پرانے معیار کے تحت تمام ترقیاتی سنگِ میل عبور کیے ہیں، جن میں شامل ہیں: (i) تمام اہم معاہدات پر دستخط: حکومت پاکستان کے ساتھ عمل درآمد معاہدہ (6 مئی 2021)، اور سی پی پی اے-جی اور این ڈی ٹی ڈی کے ساتھ ٹرائی پارٹی پاور پرچیز ایگریمنٹ (25 جون 2020) (ii) واٹر یوز ایگریمنٹ اور آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ عمل درآمد معاہدہ (23 اپریل 2020)، اور حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور کمپنی کے درمیان ٹرائی پارٹی ایگریمنٹ (25 جون 2020) (iii) نیپرا سے جنریشن لائسنس کا حصول (iv) تقریباً 4,607 کنال اراضی کا حصول اور قانونی تقاضوں کے مطابق ادائیگیاں (v) عالمی شہرت یافتہ ای پی سی کنٹریکٹر اور اونر انجینئر کی خدمات حاصل کرنا
کمپنی نے مزید کہا کہ کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سی پیک کا فلیگ شپ اور ترجیحی توانائی منصوبہ ہے اور چین و پاکستان کے درمیان ایک اسٹریٹجک باہمی معاہدہ ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی پائیدار توانائی منتقلی کے لیے ناگزیر ہونے کے ساتھ ساتھ دریائے جہلم پر پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔ لیو یونگ گانگ کے مطابق، کشن گنگا مقدمے میں ثالثی عدالت نے قرار دیا تھا کہ صرف وہ آبی استعمال محفوظ ہوں گے جو منصوبے کی تعمیر کے آغاز سے پہلے موجود ہوں۔ لہٰذا، کوہالہ منصوبے کی تاخیر یا کمیٹیڈ حیثیت کو متاثر کرنا پاکستان کے آبی حقوق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اور بین الاقوامی قوانین کے تحت پاکستان پر لازم ہے کہ وہ ہائیڈرو پاور کے استعمال کو فوری اور واضح طور پر ثابت کرے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.