BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (0.42%)
KSE100 Increased By (0.87%)
KSE30 Increased By (0.83%)
BAFL 58.12 Decreased By ▼ -0.18 (-0.31%)
BIPL 23.38 Increased By ▲ 0.12 (0.52%)
BOP 28.09 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
CNERGY 11.74 Decreased By ▼ -0.54 (-4.4%)
DFML 15.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
DGKC 185.03 Increased By ▲ 2.67 (1.46%)
FABL 92.79 Increased By ▲ 0.29 (0.31%)
FCCL 54.46 Increased By ▲ 0.65 (1.21%)
FFL 13.07 Increased By ▲ 0.27 (2.11%)
GGL 17.70 Decreased By ▼ -0.41 (-2.26%)
HBL 286.16 Increased By ▲ 0.99 (0.35%)
HUBC 197.24 Increased By ▲ 1.96 (1%)
HUMNL 8.64 Increased By ▲ 0.16 (1.89%)
KEL 5.63 Decreased By ▼ -0.01 (-0.18%)
LOTCHEM 23.83 Increased By ▲ 0.28 (1.19%)
MLCF 92.98 Increased By ▲ 1.02 (1.11%)
OGDC 303.63 Increased By ▲ 1.95 (0.65%)
PAEL 31.91 Increased By ▲ 0.10 (0.31%)
PIBTL 12.74 Decreased By ▼ -0.04 (-0.31%)
PIOC 240.41 Increased By ▲ 4.78 (2.03%)
PPL 212.91 Increased By ▲ 0.85 (0.4%)
PRL 84.34 Decreased By ▼ -2.92 (-3.35%)
SNGP 90.03 Increased By ▲ 0.02 (0.02%)
SSGC 22.83 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 6.50 Increased By ▲ 0.06 (0.93%)
TPLP 11.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.4%)
TRG 51.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.77%)
UNITY 7.58 Decreased By ▼ -0.03 (-0.39%)
WTL 0.95 Increased By ▲ 0.01 (1.06%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اعلان کیا کہ یکم اگست سے تانبے (کاپر) پر 50 فیصد نیا ٹیکس نافذ کیا جائیگا جس کا مقصد دفاع، الیکٹرانکس اور آٹوموبائل جیسے اہم شعبوں سے وابستہ اس صنعت کی مقامی سطح پر ترقی کو فروغ دینا ہے۔

یہ اقدام اُن سلسلہ وار شعبہ جاتی ٹیکسز کی تازہ کڑی ہے جو صدر ٹرمپ اس سے قبل اسٹیل اور ایلومینیم جیسی صنعتوں پر عائد کرچکے ہیں جن کے بارے میں ماہرینِ معیشت خبردار کرچکے ہیں کہ ان سے امریکی صارفین پر مہنگائی کا بوجھ بڑھے گا۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے منگل کو اشارہ دیا تھا کہ وہ تانبے پر نئے ٹیکس عائد کرنے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں امریکی کومیکس کاپر فیوچرز کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

وائٹ ہاؤس نے فروری میں تانبے کی درآمدات پر سیکشن 232 کے تحت تحقیقات کا حکم دیا تھا جو ایک ایسا قانون ہے جو صدر کو قومی سلامتی کی بنیاد پر بلند نرخوں کے ٹیکس عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ انہیں قومی سلامتی سے متعلق ایک ٹھوس تجزیہ موصول ہوا ہے، جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ متعدد اہم صنعتوں میں استعمال ہونے والے اس بنیادی خام مال کی امریکی سطح پر پیداوار کے تحفظ کے لیے ٹیکس عائد کرنا ضروری ہے۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ تانبہ سیمی کنڈکٹرز، طیاروں، بحری جہازوں، گولہ بارود، ڈیٹا سینٹرز، لیتھیم آئن بیٹریوں، ریڈار سسٹمز، میزائل ڈیفنس سسٹمز اور یہاں تک کہ ہائپر سونک ہتھیاروں — جن کی ہم بڑی تعداد میں تیاری کر رہے ہیں — کیلئے بھی ضروری ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق امریکہ اپنی ریفائن شدہ تانبے کی ضروریات کا تقریباً نصف درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے اور سال 2024 میں اس نے 8 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن تانبہ درآمد کیا۔

اعدادوشمار کے مطابق سال 2024 میں امریکہ کو ریفائنڈ تانبہ اور تانبے سے بنی مصنوعات فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں چلی، کینیڈا اور میکسیکو شامل ہیں جو اس نئے ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

چلی، کینیڈا اور پیرو نے ٹرمپ انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ ان کے ممالک سے کی جانے والی تانبے کی درآمدات امریکی مفادات کیلئے خطرہ نہیں ہیں، اس لیے ان پر ٹیرف عائد نہ کیا جائے۔

یہ تینوں ممالک — چلی، کینیڈا اور پیرو — امریکہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے رکھتے ہیں۔ نیا بھاری ٹیرف امریکہ میں مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے نافذ کیا جارہا ہے۔ ملک میں دو تہائی سے زیادہ تانبہ ایریزونا میں نکالا جاتا ہے، جہاں ریو ٹنٹو اور بی ایچ پی کی جانب سے مجوزہ ایک بڑی نئی کان کی ترقی گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے التوا کا شکار ہے۔

Comments

Comments are closed.