سندھ کابینہ نے منگل کے روز کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو اینڈ ایس سی) کے لیے 10.56 ارب روپے کا بلا سود قرض منظور کر لیا ہے تاکہ کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے لیے مخصوص فراہمی آب کا منصوبہ مکمل کیا جا سکے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے میں ڈملوٹی سے ڈی ایچ اے تک 36 کلومیٹر طویل پائپ لائن کی تعمیر شامل ہے، جس کے ساتھ ایک پمپنگ اسٹیشن، فور بے، اور فلٹریشن پلانٹ بھی تعمیر کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ فروری 2025 میں کے ڈبلیو اینڈ ایس سی کے بورڈ سے منظور ہوا تھا اور توقع ہے کہ یہ 11 ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔
کابینہ نے ترقیاتی اور ضابطہ جاتی نوعیت کے کئی دیگر اقدامات کی بھی منظوری دی۔
سیلاب متاثرین کی امداد
کابینہ نے فلڈ ایمرجنسی ریسپانس کمپوننٹ (ایف ای آر سی) کے لیے مختص رقم کو 21.56 ارب روپے سے بڑھا کر 27.67 ارب روپے کر دیا۔
ترمیم شدہ فنڈز کے ذریعے 2022 کے سیلاب سے متاثرہ 1,51,147 کسانوں کو امداد فراہم کی جائے گی، جبکہ 6.1 ارب روپے ان کیسز کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں جن کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔
مزید برآں 2.37 ارب روپے کی بچت کو بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے تقسیم کیا جائے گا۔
بینظیر ہاری کارڈ کا نفاذ
کابینہ نے محکمہ زراعت کو سندھ بینک کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کی منظوری دی تاکہ بینظیر ہاری کارڈ کو عملی شکل دی جا سکے۔
یہ کارڈ زرعی مداخلات پر سبسڈی، نرم قرضوں اور قدرتی آفات سے متعلق مالی معاونت کی فراہمی کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے۔
اب تک 2 لاکھ 37 ہزار سے زائد کسانوں نے رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں سے 88,871 درخواستوں کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔
تھر کول کی نقل و حمل کے لیے ریلوے لنک
کابینہ نے تھر کول فیلڈ (اسلام کوٹ) کو چھور سے ملانے کے لیے 105 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کی تعمیر کی منظوری دی، جس پر 45.02 ارب روپے لاگت آئے گی۔
وفاقی حکومت نے اس منصوبے کے لیے پی ایس ڈی پی 2025-26 میں 7 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ منصوبے میں بن قاسم سے پورٹ قاسم تک 9 کلومیٹر ڈوئل ٹریک اور کول ان لوڈنگ ٹرمینل کی تعمیر بھی شامل ہے۔
ای اسٹامپنگ میں اصلاحات
کابینہ نے سندھ ای اسٹامپ رولز 2020 میں ترمیم کی منظوری دی، جس کے تحت ان علاقوں میں جہاں ای-رجسٹریشن فعال ہے، وہاں فزیکل اسٹامپ پیپر کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
یہ قدم جائیداد کے لین دین میں تاخیر کو کم کرنے اور نظام کو مکمل ڈیجیٹل بنانے کی جانب پیش رفت ہے۔
زرعی آمدنی ٹیکس کے ضوابط
کابینہ نے سندھ زرعی آمدنی ٹیکس رولز 2025 کی منظوری دی، جس کے اہم نکات میں شامل ہیں،لازمی رجسٹریشن، ریٹرن کا آن لائن اندراج (ای فائلنگ)،اردو، سندھی یا انگریزی میں ریکارڈ رکھنا۔
قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کو آئندہ برسوں تک منتقل کرنے کی اجازت
حیدرآباد میں صنعتی زون کا قیام
کابینہ نے حیدرآباد میں 951 ایکڑ اراضی پر صنعتی زون قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوگا۔
اراضی سندھ اکنامک زونز مینجمنٹ کمپنی (ایس ای زیڈ ایم سی) کو منتقل کی جائے گی جبکہ محکمہ خزانہ 3.54 ارب روپے کی منظوری دے گا۔ اس منصوبے سے 55 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
ایم 6 موٹروے کے لیے اراضی کی منظوری
کابینہ نے حیدرآباد-سکھر موٹروے (M-6) منصوبے کے لیے 248 ایکڑ اراضی کی منتقلی کی منظوری دی، جس کی مالیت 667.23 ملین روپے ہے۔
اس کے علاوہ جامشورو، سکھر اور دیگر اضلاع میں بھی اضافی اراضی کی الاٹمنٹ کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کی کارروائی
کابینہ اجلاس میں 52 نکات پر غور کیا گیا، جن میں سے زیادہ تر کی منظوری دے دی گئی، اور ان پر فوری عملدرآمد کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ، سینئر وزرا، مشیران، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔






















Comments
Comments are closed.